جھلم۔رپورٹ ۔راجہ فیصل کیانی بیوو چیف بی بی سی اردو ڈسٹرکٹ جھلم۔
ڈی ایس پی ٹریفک آفس جھلم سائلین کیلئیے درد سر بن گیا ۔
قیصر ندیم نامی ڈومیلی کے ٹریفک پولیس ملازم نے کرپشن کی اعلی مثال قائم کر دی۔
تحصیل سوھاوہ اور ڈومیلی کے رھائشیوں سے آٹھ سے دس ھزار میں ڈیل کرتا ھے
ذرائع کے مطابق یہ جب ٹریفک پولیس میں بھرتی ھوا تو موصوف کے پاس سائیکل تک نہ تھی
بگوالہ گاؤں کے رھائشی نے اپنی چاپلوس طبیعت اور شاطرانہ پن سے تمام عملے و افسران کو اپنا دیوانہ بنا رکھا ھے
موصوف کا کال ڈیٹا اور سی ڈی آر نکلوا کر اگر چیک کیا جاۓ تو دودھ پانی الگ ھو سکتا ھے
موصوف کی تنخواہ قلیل اور اثاثے لاکھوں میں ھیں
یہ ایسے جدید سائنسی طریقے سے رشوت لیتا ھے کہ ڈی پی او جھلم اور سرکل آفیسر اینٹی کرپشن جھلم اس کی بھنک تک نہیں پا سکتے
موصوف نے بطور آئی ٹی انچارج لاکھوں کی کرپشن کی ھے اور کئی سائلین کو جعلی لائسنس کی رسیدیں بھی جاری کیں ھیں
قیصر مجید آئی جی پنجاب کے احکامات اور پولیس رولز کو مکمل طور پر پس پشت ڈال کر پولیس خدمت مرکز جھلم میں تعینات ھونے کے باوجود سارا سارا دن موبائل نمبر
0344.5722249
پر لائسنسوں کی ڈیلنگ کرتا ھے
اگر قیصر کچھ عرصہ مزید ٹریفک پولیس جھلم میں مزید تعینات رھا تو لوگوں کا ٹریفک پولیس پر سے اعتماد اٹھنا یقینی ھے
کیونکہ سینکڑوں میل دور سے آنے والے سائلین تو ذلیل خوار ھونے کے باوجود لائسنس کے حصول میں ناکام رھتے ھیں جبکہ قیصر ندیم کے چار سے پانچ آدمی ٹیسٹ نہ دینے کے باوجود پاس ھو جاتے ھیں
اگر ڈی پی او جھلم نے اس شخص کو جھلم سے تبدیل نہ کیا اور اس کے اثاثہ جات کا منصفانہ آڈٹ نہ کرایا تو عوام میں شدید بے چینی اور اضطرابی کیفیت پھیلنے اور کوئی انہونی ھونے سے کوئی نہیں روک سکے گا