اسلام آباد:  وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ افغانستان کے اندر سعودی عرب کا بہت گہرا اثر ورسوخ ہے، اس کی مدد کے بغیر افغانستان میں کامیابی ممکن نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نےایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں کیا۔ فواد چودھری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے یمن میں جنگ بندی کی بات کی تھی۔ وزیراعظم کی بات کے بعد یمن میں معاملات آگے بڑھے ہیں۔ ان کے کہنے پر یمن میں جنگ میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے اندر سعودی عرب کا بہت گہرا اثر ورسوخ ہے، اس کی مدد کے بغیر افغانستان میں کامیابی ممکن نہیں ہے۔ فواد چودھری کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں تناؤ کم کرنے کیلئے پاکستان اپنا رول ادا کر رہا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں بڑا کردار نہیں نبھایا۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشتگردی سے مل کے نمٹیں گے۔ جنرل راحیل شریف نے اس اتحاد کی ہیت اور نوعیت بتائی۔ راحیل شریف کا سعودی عرب میں ہونا پاکستان کیلئے فائدہ مند ہے۔ جب اپنا آدمی اہم پوزیشن پر ہو تو اس کا ملک کو فائدہ ہوتا ہے۔ وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا تھا کہ سعودی اتحاد کسی ملک کیخلاف جنگجو افواج پر مبنی تنظیم نہیں، سعودی فوجی اتحاد 41 ممالک میں باہمی رابطے کا ذریعہ ہے۔  پاک بھارت تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت سے معمول کے مطابق تعلقات چاہتا ہے۔ عرب ممالک کے بھارت سے تعلقات کا پاکستان کو فائدہ ہوگا۔ سعودی عرب بھارت سے تعلق نہ رکھے، یہ ڈپلومیسی کیخلاف ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے بھارتی تعلقات پاکستان کیلئے فائدہ مند ہیں۔ پاکستان کی بھی بھارت کے ساتھ کوئی دشمنی کی پالیسی نہیں ہے۔ کشمیر میں ظلم پر آواز اٹھاتے ہیں، اسے دشمنی نہیں بنانا چاہتے۔ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ قوانین میں طے ہے کہ انتہا پسندانہ بیانیہ کی تعریف کیا ہے۔ لوگوں پر قتل کے فتوے صادر نہیں کیے جا سکتے۔ کوئی فرد واحد ماہر ریاستی اختیار استعمال نہیں کر سکتا۔ تشدد اور قتل پر اکسانے پر ریاست کریک ڈاؤن کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار کے نام پر نفرت آمیز تقاریر کی اجازت نہیں ہو گی۔ سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس کا پتا لگانے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ فی الوقت میڈیا پر پگڑیاں اچھالنے والوں کیخلاف کچھ نہیں کر سکتے۔ ریگولیٹری اتھارٹی کے تحت جوڈیشل مکینزم فراہم کریں گے۔ جوڈیشل مکینزم کے تحت ہتک عزت کے مقدمات سنے جائیں گے۔