لندن :  کچھ ناعاقبت اندیش جو پیدائشی طور پر مرد ہوتے ہیں، جنس تبدیل کروا کر خواتین بننے کی کوشش کرتے ہیں تاہم خواجہ سراءہی رہتے ہیں، کبھی پوری عورت نہیں بن پاتے۔ تاہم اب مغربی سائنسدانوں نے انہیں پوری عورت بنانے کی سمت بھی بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے جس کے بعد یہ خواجہ سراءبھی بچے کو جنم دے سکیں گے۔  امپیرئیل کالج لندن اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایسا طریقہ¿ کار وضع کرلیا ہے جس کے ذریعے خواجہ سراﺅں کے جسم میں سرجری کے ذریعے بچے دانی رکھی جائے گی۔ ابتدائی طور پر سائنسدانوں نے این ایچ ایس سے 15ایسی خواتین میں بچے دانیاں ٹرانسپلانٹ کرنے کی اجازت حاصل کی ہے جو بچے دانی کے بغیر پیدا ہوئی تھیں یا کسی بیماری کی وجہ سے ان کی بچے دانی نکالی جا چکی ہے۔ یہ آپریشنز آئندہ ہفتوں میں کیے جائیں گے۔ اگر یہ تجربات کامیاب ہو گئے تو خواجہ سراﺅں میں بھی بچے دانی ٹرانسپلانٹ کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی اور وہ بھی بچہ پیدا کرنے کے قابل ہو جائیں گے اور برطانیہ دنیا کا پہلا ملک ہو گا جو کامیابی سے بچے دانی ٹرانسپلانٹ کرنے کا آپریشن کرے گا۔ رپورٹ کے مطابق اس ایک آپریشن پر 50ہزار پاﺅنڈ (تقریباً 89لاکھ 72ہزار روپے)خرچ آئے گا۔ امپیرئیل کالج کے سرجن ڈاکٹر بین جونز کا کہنا تھا کہ ”ہم نے اس تحقیق میں پیدائشی طور پر مرد خواجہ سراﺅں میں بھی بچے دانی ٹرانسپلانٹ کرنے کے پہلو کو مدنظر رکھا ہے۔ ان لوگوں میں جو بچے دانیاں ٹرانسپلانٹ کی جائیں گی وہ مرنے کے بعد بچے دانی عطیہ کرنے والی خواتین یا جنس تبدیل کروا کر مرد بن جانے والی خواتین سے حاصل کی جائیں گی۔“