گلگت بلتستان کی موسیقی

تحریر  ۔ڈاکٹر سید محمد عظیم شاہ بخاری

موسیقی فنونِ لطیفہ کی ایک اہم صنف ہے اور اسکا تعلق اندرونی جزبات سے اتنا زیادہ ہے کہ یہ روح کی غذا کہلائی جاتی ہے۔ اور اس بات میں بھی کوئی مضائقہ نہیں کہ کسی بھی علاقے میں رہنے والے لوگوں کے مزاج کی عکاس وہاں کی موسیقی اور ثقافت ہوتی ہے۔
پاکستان کے شمال میں واقع ”گلگت بلتستان” کا جنتِ نظیر خِطہ اپنی دلکشی اور خوبصورتی میں کوئی ثانی نہیں رکھتا۔ بلند و بالا پہاڑوں سے گِھرا یہ خِطہ اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے۔ ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کی بلندیاں، دریائے سندھ، گلگت اور شِگر کا بہاؤ، سیاچن، بالتورو اور میشربروم کے ٹھنڈے گلیشیئر اور شاہراہِ قراقرم کی بل کھاتی ہوئی لکیر یہاں کے لوگوں کی فطرت اور انکے ذوق پر زبردست اثر رکھتی ہے۔ یہاں کی تاریخ کی طرح یہاں کی ثقافت بھی انتہائی زرخیز ہے جو دیکھنے والے کو مبہوت کر دیتی ہے۔ اس علاقے کے مسحور کُن مناظر اور بدلتی رُتوں  نے یہاں کے لوگوں کے ”ذوقِ جمال” کو جِلا بخشی ہے اور فطرت سے انکی محبت یہاں کی شاعری، موسیقی، رسم ورواج، ادب اور رقص میں بھی جھلکتی ہے۔
گلگت بلتستان کی موسیقی اور روائیتی دھنیں بھی ملک کے دیگرعلاقوں کی موسیقی اور دھنوں سے بالکل مختلف ہیں۔ روایتی ناچ سے لیکر مقامی زبان میں غزل, گانے اور شاعری کے اندر،علاقائی تہذیب اور روایات کے علاوہ اخلاقی پہلو نمایاں طور پر نظرآتا ہے۔ یہاں کی بعض رسومات ایسی ہیں جن کا ذکر موسیقی کے بغیر ادھورا ہے جن میں ایک مشہور رسم ”تلینے” بھی شامل ہے( اسے بلتستان میں ”مے تسگ” اور ہُنزہ میں ”تھوموشنگ” کہا جاتا ہے)۔ اس کے علاوہ ”گنانی” کا تہوار بھی ساز و سُر کے بنا ادھورا ہے۔
گلگت بلتستان کے دس اضلاع میں کم وبیش چھ مقامی زبانیں بولی جاتی ہیں اور ان تمام زبانوں میں شعر و شاعری کے علاوہ غزل گائیکی کا رواج پرانے وقتوں سے موجود ہے ۔ قابل غور بات تو یہ ہے کہ جہاں  کئی لاکھ کی آبادی میں انگریزی اور اردو کے علاوہ 6 مقامی زبانیں موجود ہیں وہیں ایک ایسی زبان بھی یے جسے سازندوں کی زُبان کہا جاتا ہے۔ ہنزہ کے سازندے یہ زبان بولتے ہیں جسے ”ڈوماکی” کہا جاتا ہے۔
دلچسپ بات تو یہ ہے کہ یہاں  ایک زبان کی دوسری زبان سے بالکل بھی مماثلت نہیں ، لیکن  موسیقی کی دھن پر ناچ میں سو فیصد یکسانیت ہے۔  اگر بلتستان کے بلتی بولنے والے اور گلگت شہر یا ہنزہ نگر کے بروشسکی  بولنے والے روایتی دھنوں پر ناچیں گے تو ملک کے دوسرے صوبے یا علاقے سے آئے ہوئے مہمان بالکل بھی محسوس نہیں کر پائیں گے کہ یہاں ناچنے والوں کی زبان مختلف ہے۔ اسی طرح شِنا زبان (جو گلگت بلتستان کی سب سے بڑی زبان ہے) کی شاعری اور گائیکی کی دھن، بلتستان یا گوجال کے باسیوں کے لیے پرائی نہیں بلکہ دھن اور غزل کو وہ اسی طرح ہی محسوس کرتے ہیں جیسے شنا بولنے والے۔
لیکن ثقافت کی سنہری تاریخ سے مُزین اس کتاب کے صفحات اب رفتہ رفتہ پھیکے پڑتے جا رہے ہیں۔ اگرچہ گلگت و ہُنزہ کی نئی نسل اپنی روایات کی امین نظر آتی ہے لیکن  بلتستان کے بیشتر اضلاع سے(ماسوائے گانچھے) موسیقی ، روایتی سازندے، قدیم دُھنیں اور آلاتِ موسیقی معدوم ہونے کے قریب ہیں۔ جو ہماری ثقافت کے لیئے کسی نقصان سے کم نہیں۔ آئیئے میٹھے چشموں کی اِس سرزمین کی میٹھی موسیقی، اسکے سازوں اور دُھنوں کا جائزہ لیتے ہیں۔
1۔ سرنائی :
یہ اس علاقے کا ایک اہم ساز ہے جو شہنائی کی ہی ایک قسم ہے۔ خوبانی کی لکڑی سے بنے اس ساز میں آٹھ سوراخ ہوتے ہیں جن میں سات سوراخ اوپر اور ایک نیچے کی طرف ہوتا ہے۔
اسے گلگت اور نگر سمیت بلتستان اور چِترال میں بھی بجایا جاتا ہے۔

2۔ ڈامل :
طبلہ سے مشابہہ یہ ساز دو چھوٹے ڈرمز پر مشتمل ہوتا ہے جنہیں دو باریک لکڑیوں کی مدد سے بجایا جاتا ہے۔ اسے پیتل یا فولاد کے دو گول لمبے برتنوں پر چمڑا لگا کر تیار کیا جاتا ہے۔
3۔ رُباب :
رُباب یہاں کا ایک مشہور ترین ساز ہے جو مزہبی موسیقی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ صوبہ بلوچستان میں بھی بجایا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کی اِس ساز کا آبائی وطن ”وسط ایشیاء” ہے۔
رُباب کو شہتوت کی جڑ اور تنے سے بنایا جاتا ہے۔ پھر چمڑا لگایا جاتا ہے اور اس میں 6 سے 12 تاریں لگائی جاتی ہیں۔ اس کا اوپری حصہ لمبا اور نیچے کا حصہ طنبورے کی طرح ہوتا ہے جس پر بہت سے تار ہوتے ہیں، اس کی دھن کانوں میں رس گھول کر سننے والوں کو مدہوش کردیتی ہے۔ ہُنزہ کے رباب چھوٹے جبکہ دیگر شمالی علاقوں کے بڑے ہوتے ہیں۔

4۔ چھردہ :
اس ساز میں نیچے کا حصہ گول ہوتا ہے۔ تاروں سے بنے اس ساز میں تاروں کی تعداد اور حجم، رباب کے مُقابلے میں کم ہوتا ہے۔ اسے بھی شہتوت کی لکڑی سے بنایا جاتا ہے اور یہ صرف ہُنزہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔

5۔ ڈڈنگ :
 جنگلی بید کی لکڑی سے بنے ڈھول نما ساز ”ڈڈنگ” کو بھی اس علاقے میں خاص مقام حاصل ہے۔ البتہ بلتستان میں یہ ہلکی قسم کا بنایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس ساز کی آمد ایران سے ہوئی ہے لیکن کچھ محققین اسے کشمیر کا ساز قرار دیتے ہیں۔

6۔ توتیک :

بانسری سے مشابہت رکھنے والے اس ساز کی ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے۔ یہ اس لحاظ سے عام بانسری سے مختلف ہے کہ اس میں 6 کی بجائے 8 سوراخ ہوتے ہیں۔ مقامی لوگ اسکے بہت شائق ہیں اور کئی افراد اسے ہمیشہ پاس رکھتے ہیں۔

7۔ دَف :
ستار اور رباب کے ساتھ مقامی طور پر بنی ہوئی دف کا استعمال ہوتا ہے۔  شاہراہِ قراقرم کے ذریعے اب سنکیانگ اور کاشغر سے بھی دف منگوائے جاتے ہیں۔

8۔ ژغنی :

اس خوبصورت ساز کا وطن بھی وسط ایشیاء قرار دیا جاتا ہے۔ یہ وائلن سے مشابہ ہے اور اس میں اسٹیل کے تار لگے ہوتے ہیں۔ اسے لمبی چھڑی کی مدد سے بجایا جاتا ہے۔ شہتوت کی لکڑی سے تیار کردہ یہ ساز 3 روز میں تیار ہو جاتا ہے۔ یہ گلگت بلتستان کی ثقافت کا ایک انوکھا رنگ ہے۔

9۔ ستار :
مقامی انداز کا ستار اخروٹ اور شہتوت کی لکڑی سے بنایا جاتا ہے۔ نِچلا حصہ شہتوت جبکہ دستہ اخروٹ کی لکڑی سے بنایا جاتا ہے۔ اس کا استعمال دیگر سازوں کے مقابلے میں بہت بعد میں شروع ہوا۔

10۔ چترالی ستھار :

چترالی ستھار کو کھوار آلاتِ موسیقی میں ممتاز مقام حاصل ہے۔ یہ عام ستار سے چھوٹا ہوتا ہے اور آج بھی پاکستان کے ضلع چترال اور گلگت بلتستان میں دلچسپی سے سنا اور بجایا جاتا ہے۔ ستار بجانے والے کو ستھاری اور ساز کو ستھار کہا جاتا ہے۔

11۔ ڈڈنگ اور ڈامل :
گلگت بلتستان میں دو الگ الگ سازوں ڈڈنگ اور ڈامل کو اکٹھے بجایا جاتا ہے۔ آپ اسکو ”دیسی بینڈ” بھی کہہ سکتے ہیں ۔ یہ ڈڈنگ ڈامل پہلے وقتوں میں جتنا مشہور تھا اب بھی اس کی پسندیدگی میں کوئی فرق نہیں ایا البتہ اس کے استعمال میں تھوڑی سی کمی دیکھنے کو ضرور ملتی ہے۔ پہلے وقتوں میں شادی بیاہ سے لیکر کسی وی آئی پی کو خوش آمدید کہنے اور استقبال تک اسی ڈڈنگ ڈامل کا استعال عام تھا.

لیکن اب ایسا نہیں ہے ۔

جدید موسیقی کے دلدادہ نوجوان اس میں کم ہی دلچسپی رکھتے ہیں اب یہ ڈڈنگ ڈامل صرف پولو کے کھیل کے لئے مخصوص ہو کر رہ گیا ہے ۔ ڈڈنگ ڈامل اور پولو کا چولی دامن کا ساتھ ہے ڈڈنگ ڈامل کچھ اس طرح سے لازم و ملزوم ہوگئے ہیں کہ ان دونوں کا ایک دوسرے کے بغیر پنپنا بہت مشکل ہے۔  ان دونوں کا ساتھ دیکھ کر ہر کوئی آسانی سے اندازہ کر سکتا ہے کہ جب تک پولو کا کھیل جاری ہے اس وقت تک ڈڈنگ ڈامل بھی ہمیں نظر آئیگا نہیں تو شاید اس کا بھی وہی حشر ہو سکتا ہے جس طرح دوسرے روایتی آلہ جات کے ساتھ ہوا ہے۔

یہ تو تھا اس علاقے کے چند مشہور سازوں کا مُختصر سا تعارف ۔ اب چلتے ہیں یہاں کی مشہور دُھنوں کی طرف۔

1۔ بان چھوس :
یہ دھن ایک مخصوص بانسری، ڈھول اور نقارے کے ساتھ بجائی جاتی ہے۔ یہ کاہنوں میں مخصوص ہے۔ اس میں ترتیب کا بہت زیادہ خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اگر ترتیب گڑبڑ ہو جائے تو ساری دھن کا مزہ کرکرا ہو جاتا ہے۔

2۔ شعراء :
بلتستان اور ہنزہ کا مشہور ترین کھیل پولو ہے۔ اس کھیل میں گول کرنے والا کھلاڑی کامیابی کا اظہار گھوڑا دوڑا کر اور گول چکر لگا کر کرتا ہے۔ اس موقع پر ایک دُھن بجائی جاتی ہے جسے ”شعراء” کہا جاتا ہے۔ یہ دھن کھلاڑی کی فتح و کامرانی کے اظہار کے طور پر بجائی جاتی ہے۔

3۔ تاجور/ بختاور :
یہ دونوں دُھنیں حکمرانوں اور امراء کے احترام اور انکی خوشنودی کے لیئے بجائی جاتی ہیں۔ تاجور نامی دھن راجا اور بختاور، ولی عہد کے لیئے مخصوص ہوتی ہیں۔ چونکہ اب یہ نظام موجود نہیں ہے، لہذا یہ دھنیں بھی آہستہ آہستہ ختم ہوتی جا رہی ہیں۔

4۔ بدھ چھوس :
اس دھن پر بُدھ مزہب کے لوگ مزہبی تہواروں پر رقص کرتے ہیں۔ آج کل تفریحاً بجائی جاتی ہے۔ اس میں روحوں کی نقل اتار کر رقص کیا جاتا ہے۔

5۔ آبادکاروں کی دھنیں :
کشمیر سے گلگت اور بلتستان آ کر آباد ہونے والوں کی بھی مخصوص دھنیں ہیں جن میں “کچھے چھوس” بہت اہم ہے۔ یہ لوگ بلتستان کی سرحد پر آباد ہیں۔

گلگت بلتستان کی موسیقی بھی اس خطے کی طرح اپنے اندر وُسعت، دلکشی اور فطرت کے اسرار و رموز لیئے ہوئے ہے۔ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ اِن سازوں ، دھنوں اور آلات کو محفوظ رکھنے کے لیئے سرکاری سطح پر کوششیں ہونی چاہیئیں مگرایسا کچھ ہوتا نظر نہیں آتا۔ اب اِس علاقے کے عوام کو ہی اپنے اس خوبصورت کلچر کا تحفُظ کرنا ہوگا ورنہ کل کو یہ سازبھی عجائب گھروں کی زینت بن جائیں گے۔