نئی دلی: پاکستان کی جانب سے جذبہ خیرسگالی کے تحت پائلٹ ابھی نندن کی رہائی کے باوجود بھارت میں نہ مانوں کی ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور پاکستان سے ایک بار پھر بوسیدہ اور پرانے مطالبات دہرانے لگا۔ڈھٹائی کی حدوں کو چھوتا بھارت اپنے منفی اور جارحیت پسند رویے پر نظر ثانی کرنے کے بجائے پاکستان سے طوطے کی طرح پرانے مطالبات دہرانے لگا، بھارت پاکستان کے مثبت اور دانشمندانہ اقدامات کے باوجود کشیدگی کم کرنے کو تیار نہیں۔بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے پریس بریفنگ کے دوران ایک مرتبہ پھر پروپیگنڈے کو ہوا دی اور پاکستان سے بے تکے مطالبے کرتے ہوئے کہا کہ نیا پاکستان ہے، نئی حکومت ہے تو دہشت گردوں کے خلاف اقدامات بھی نئے ہونے چاہییں جو نا صرف نظر آئیں بلکہ ان کی تصدیق بھی کی جا سکے۔ترجمان بھارت وزارت خارجہ پاکستان کے جذبہ خیر سگالی کے تحت پائلٹ کی رہائی اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے خود اپنے ملک کی سبکی کا سامان کرتے رہے اور پاکستان کی جانب سے بھارتی طیارے کو تباہ کرنے میں ایف-16 کے استعمال کے بے بنیاد الزامات کی تکرار کرتے رہے۔رویشن کمار نے دنیا کا سب سے بڑا یوٹرن لیا اور اپنے میڈیا کو تسلی کی چوسنی دیتے ہوئے کہا کہ ابھی نندن پاک فضائیہ کی بھارتی تنصیب کو نشانہ بنانے کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے لاپتہ ہوئے جب کہ بھارتی فضائیہ کے حملے میں جیش محمد کا مدرسہ تباہ ہوا جہاں پاکستان عالمی میڈیا کو جانے کی اجازت نہیں دے رہا۔واضح رہے کہ پلوامہ حملے میں بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سے پاکستان نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر قسم کی تعاون کی پیشکش کی ہے تاہم مودی سرکار انتخابات میں کامیابی کے لیے جنگی جنون کو ہوا دے رہی ہے جس کا ادراک عالمی سطح پر بھی کیا جا چکا ہے۔ یہی وجہ کہ عالمی قوتیں پاکستان کے اقدامات کی معترف ہیں۔