لاہور: ملتان میں نشتر ہسپتال کے کینسر وارڈ کے انچارج ڈاکٹر اعجاز مسعود قاتلانہ حملے میں زخمی ہو گئے، نا معلوم افراد نے ان پر فائرنگ کی۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے کارروائی شروع کر دی، مبینہ حملہ آور نے فائرنگ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈال دی۔ لوہاری گیٹ کے علاقے میں گزشتہ روز دو افراد نے نشتر ہسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر اعجاز مسعود پر فائنرگ کر دی جس سے ڈاکٹر اعجاز مسعود کو دو گولیاں ٹانگ پر لگیں، فائرنگ کے نتیجے میں ڈاکٹر اعجاز مسعود شدید زخمی ہو گئے جنہیں تشویشناک حالت میں نشتر ہسپتال کی ایمرجنسی وارڈ میں منتقل کیا گیا جہاں آپریشن کے بعد دونوں گولیاں نکال لی گئیں۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ خون زیادہ بہہ جانے سے ابھی بھی ان کی حالت خطرے میں ہے جبکہ دوسری طرف مبینہ طور پر فائرنگ کرنے والے شخص فیصل قریشی نے پروفیسر پر حملہ آور ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈال دی ہے جس میں اس نے اعتراف کیا ہے کہ ڈاکٹر اعجاز مسعود نے اس کی بیوی کا غلط علاج کیا جس کی وجہ سے وہ انتقال کر گئی۔ جس کا بدلہ انہوں نے فائرنگ کر کے لیا بعد ازاں پولیس نے تھانہ لوہاری گیٹ میں دو نامعلوم افراد کے خلاف 324 سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید کاروائی شروع کر دی ہے تاہم تاحال ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جا سکا جبکہ ڈاکٹرز تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر 48 گھنٹے کے دوران ملزمان کو گرفتار نہ کیا گیا تو وہ نشتر سمیت تمام سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈیز بند کر دیں گے۔