ملتان (صفدرعلی بخاری سے)  وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان میں امتحان ابھی جاری ہے ختم نہیں ہوا۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام چاہتے ہیں لیکن بہت سارے عناصر ایسا نہیں چاہتے۔ شاہ محمود کا کہنا تھا ہم افغانستان میں امن کیلئے پر اعتماد طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں، آج ایک ناامیدی میں امید کی ایک کرن دکھائی دے رہی ہے کہ شائد کوئی امن کیلئے کوئی معاہدہ ہوجائے۔ ملتان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن سے پاکستان کو براہ راست فائدہ ہوگا، افغانستان سے سترہ سال سے جنگ جارہی ہے اگر وہاں امن آگیا تو کاسا ون منصوبے سے پاکستان کو سستی بجلی ملے گی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکہ آج ساوتھ ایشیا میں کشیدگی کم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے، ٹرمپ نے خود کہا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کیلئے تعمیری کردار ادا کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات ایک نئی کروٹ لینے والے ہیں۔ شاہ محمود کا کہنا تھا کہ ہمارا تیسرا پڑوسی ملک ایران ہے، ایران کے ساتھ اچھے تعلقات ہماری ضرورت ہیں، ان کے ساتھ پر امن بارڈر ہونا وقت کی ضرورت ہے۔وزیرخارجہ نے کہا ایران کے 12 میں سے5 پاسداران کو تلاش کرکے واپس بھیجے اور دیگر کیلئے کارروائیاں جاری ہے۔ پاک امریکہ تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج وہ امریکہ جس کے آپ بہت قریب تھے انہوں نے بڑا فیصلہ کیا، امریکہ سٹیکجک سڑائیک پاکستان کو نہیں بھارت کو سمجھتا ہے، پاکستان پر بنا تحقیق کے انگلیاں اٹھا دیتے ہیں۔ بھارت نے ہر فارم استعمال کیا پاکستان کو نیچا دکھانے کے لیے۔انہوں نے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران پاکستان کے دنیا کے ساتھ تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔ دنیا بھر سے پاکستان میں سرمایہ کاری آرہی ہے، رواں ماہ میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان ایک معاہدہ متوقع ہے۔پاکستان نے چین کے ساتھ سی پیک ٹو کا معاہدہ کرلیا ہے۔ سی پیک ٹومیں چین کے ساتھ مل کر غربت مٹانے، زرعی معاشی پیداوار بڑھانے پر کام کریں گے۔  شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بدعنوانی اور بدانتظامی کی وجہ سے قومی اداروں کی کارکردگی متاثر ہوئی۔ معاشی اعتبار سے بھی پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔ گزشتہ دور حکومت میں پاکستان کا نام گرے لسٹ میں آیا لیکن اب پاکستان رواں ماہ یورپی یونین کیساتھ معاہدہ کرنے جا رہا ہے۔ یو اے ای پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کرنے کیلئے تیار ہے۔ خطے میں سب سے بڑا آئل ریفائنری کا منصوبہ بلوچستان میں لگایا جا رہا ہے یہ تبدیلی نہیں تو کیا ہے؟ تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے۔