ملتان: متحدہ مجلس عمل اور  جمیعت علماء اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ریاستی سطح پر تمام اقدامات آئین سے ماورا ہو رہے ہیں، نواز شریف کو ان کے معالج تک رسائی نہ دینا حکومتی انتقام ہے،خواتین کے عالمی دن کے موقع پرجس تہذیب کا مظاہرہ کیا گیا اس سے ہم نے یورپ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ،اقتصادی لحاظ سے ملک دیوالیہ لائن کو چھورہا ہے، اپوزیشن کا اکٹھا ہونا بہتر ہے،امریکہ کے ساتھ طالبان کے مذاکرات میں ہمارا کوئی رول نہیں ہے۔ مدرسہ قاسم العلوم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ بھارت شکست کھا چکا ہے ،مودی اپنے عزائم کو حاصل کرنے کے لئے سیاسی پوائنٹ سکورننگ کررہا ہے، نواز شریف یا زرداری بھارتی پائلٹ کو رہا کرتے تو ان کا مودی کا یار کہا جاتا ،بھارتی پائلٹ کو رہا کرکے ہم نے اسے خیر سگالی کا نام دے دیا جبکہ بدلے میں بھارت کا جواب پوری قوم کے سامنے ہے۔انہوں نے کہا کہ  اقتصادی لحاظ سے ملک دیوالیہ کی لائن کو چھورہا ہے ، جعلی الیکشن سے آنے والے قوم کی نمائندگی کا حق نہیں رکھتے ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ پارلیمنٹ کے ایک ممبر نے توہین کی، جب اس حوالے سے اسمبلی میں قرارداد پیش کی گئی تو ہماری قرارداد کو پیش نہیں کرنے دیا گیالیکن اگر ہندو مذہب کی توہین کی جائے تو وزیر کو اس کے عہدے سے فارغ کردیا جاتا ہے ۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ  بے حیائی کے لئے بھی پاکستان کے لئے چن لیا گیا ہے، جس کی زندہ مثال پاکستان کے چند شہروں میں حالیہ دنوں جس تہذیب کا مظاہرہ ہوا ہے یہ کس کی تہذیب ہے؟ ہم نے یورپ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، لوگ مایوس ہو جائیں تو بغاوت پر ایسی چیزیں اکساتی اور ردعمل سامنے آتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر آواز بلند کی ہے،ملک میں میڈیا پر قدغن لگادی گئی، ایسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ پرویز مشرف کا دور ہے، اوپر مشرف ہے تو نیچے شوکت عزیز ہے، ریاستی سطح پر تمام اقدامات آئین سے ماورا ہو رہے ہیں، کہتے ہیں کہ ہم دنیا کے ساتھ چل رہے ہیں لیکن 70سالوں میں ملک کو پیچھے کی طرف دکھیلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک ہمارا ہے اور ہم نے ہی اس کی حفاظت کرنی ہے ،ہم ہر قسم کی قربانی دینے کو بھی تیار ہیں، اپوزیشن کا اکٹھا ہونا بہتر ہے ،اپوزیشن اکٹھی نہیں ہو تی تو تحریک کا انحصار اپوزیشن پر نہیں، عوام ہمارے موقف کو دیکھ رہے ہیں، ہم بڑے رہنماؤں سے رابطوں میں بھی ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ نواز شریف کو صحت کی سہولیات دی جانی چاہیں، اگر انہیں علاج کی سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں تو یہ انتقام ہے جبکہ سیاستدانوں کے خلاف انتقامی کاروائیاں بھی  افسوسناک ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ طالبان کے مذاکرات میں ہمارا کوئی رول نہیں ہے، امریکہ نے جن لوگوں پر ظلم کیا آج انہی کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے، افغانستان کی استقامت کو سلام پیش کرتے ہیں ۔