اسلام آباد : پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ نوازشریف کی طبیعت جاننے کیلئے آج یہاں آیا ہوں ، میاں صاحب نے خود کہا ہے کہ وہ نظریاتی بن گئے ہیں ، وہ سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے ، میاں صاحب اپنے اصولوں پر قائم ہیں ، لگتا نہیں کہ کوئی ڈیل ہوئی ہے ، میاں صاحب سمجھوتہ کرنے پر راضی نظر نہیں آتے ۔ سابق وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ ملاقات کے بعد بلاول بھٹو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب کی طبیعت کا پوچھنے کیلئے پہنچا تھا ، یہ میرے لیے ایک قسم کا تاریخی دن ہے ، ذوالفقار بھٹو شہید نے بھی اسی جیل میں وقت گزارا تھا ، سابق صدر زرداری نے بھی اسی جیل میں وقت گزارابلکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن آمریت کیخلاف جدوجہد کرتے ہوئے یہاں سیاسی قیدی بنے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے تعجب ہو رہاہے کہ ایک آدمی ملک کا تین بار وزیراعظم رہا ہے اور وہ کوٹ لکھپت جیل میں قید ہے اور سزا بھگت رہاہے اور بیمار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نوازشریف کی طبیعت پوچھنے کیلئے پہنچا تھا ،پہلے میں ملک سے باہر تھا تو خبریں آ رہی تھیں کہ میاں صاحب بیمار ہیں اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے بھی کافی تحفظات والے بیانات آئے ۔ ان کا کہناتھا کہ سیاسی اختلافات ہوتے ہیں لیکن پیپلز پارٹی کی ثقافت ہے اور ہمارا دین بھی یہ کہتا ہے کہ مسلمان بیمار ہو تو اس کی عیادت کرنی چاہیے ۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہناتھا کہ حکومت کو بھی پہلے انسان اور پھر حکمران ہونا چاہیے ، کسی بھی قیدی کے ساتھ اس طرح کی نا انصافی نہیں ہونی چاہیے ، خاص طور پر کوئی بھی قیدی بیمار ہو تو اسے حکومت کو بہترین طبی سہولت فراہم کرنی چاہیے ۔ چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہناتھا کہ دل کا مرض ہو تو اسے زیادہ سٹریس میں ڈال کر علاج نہیں کر سکتے ، یہ ایک تشدد ہے ، میاں صاحب بیمار لگ رہے تھے ، ہم بھی میاں صاحب کی صحت کیلئے دعا کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان طویل تاریخ ہے ۔ ان کا کہناتھا کہ نوازشریف جو بھی کہتے ہیں انہیں وہی علاج کی سہولیات فراہم کی جانی چاہیے ۔اس موقع پر صحافی نے بلاول بھٹو سے سوال کیا کہ میاں صاحب جیل میں رہ کر اس سسٹم کا مقابلہ کرنے کیلئے پرعزم تھے ؟ جس پر بلاول نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میرے والد نے گیارہ سال جیل میں گزارے تھے ہر کیس کھلا اور انہیں کیسز میں وہ باعزت بری ہوئے ، جب یہ گیارہ سال گزرے تو ایک مہینہ بھی ایسا نہیں تھا جب ہم نے نہیں سنا کہ ڈیل ہو گئی ہے ، میاں صاحب نے خود کہا ہے کہ وہ نظریاتی بن گئے ہیں ، وہ سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے ، میاں صاحب اپنے اصولوں پر قائم ہیں ، لگتا نہیں کہ کوئی ڈیل ہوئی ہے ۔ ان کا کہناتھا کہ نوازشریف کے ساتھ زیادہ تر ملاقات میں طیبعت اور میثاق جمہوریت پر بات چیت ہوئی ، بے نظیر بھٹو شہید اور نوازشریف نے 2006 میں میثاق جمہوریت پر دستخط کیے ، اس پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا گیا یہ ہماری ناکامی ہے تاہم اس پر عملدرآمد ہونا چاہیے ۔