پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیموں کے نام پر فراڈ

تحریر : زین العابدین عابد

پنجاب ڈویلپمنٹ آف سٹیز ایکٹ مجریہ 1976 کی کلاز 12(5) کے تحت ملتان ترقیاتی ادارہ کی منظوری کے بغیر کوئی ادارہ یا ڈویلپر کوئی ہاؤسنگ سکیم بنا سکتا ہے اور نہ ہی پنجاب پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیم اینڈ لینڈ سب ڈویژن رولز 2010 کے تحت کوئی ہاؤسنگ سکیم منظوری سے قبل مشتہروفروخت کے لئے پیش کی جاسکتی ہے۔ مگر ملتان کے کاریگر اسٹیٹ ڈویلپرز نے214ایسی رہائشی سکیموں متعارف کرا دیں جو غیر قانونی ثابت ہوئیں، ان کاغذی اور فراڈ ہاؤسنگ سکیموں کے پلاٹ ایم ڈی اے کے افسران کی معاونت اور ملی بھگت سے فروخت کر کے کروڑوں روپے کما لیئے، ملتان کی غیر قانونی رہائشی سکیموں کے خلاف سب سے پہلے با ضابطہ کاروائی عمل میں لانے کا سہرا ’’ الطاف ساریو ‘‘ ایڈیشنل ڈی جی ایم ڈی اے کو جاتا ہے۔ سال 2015 ء میں الطاف ساریو نے MDA کی سائیٹ پر تمام غیر قانوی ہاؤسنگ سکیموں اور لینڈ سب ڈویژ ن (39)کے نام مشتہر کئے، جس سے ملتان کے پراپرٹی ڈیلرز اور اسٹیٹ ڈویلپر ز مخالفت پر اتر آئے ،ان پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیموں سے عام شہریوں یا کاروباری طبقہ کا دور دور سے بھی تعلق نہیں، یہ ایم این ایز، ایم پی ایز، اور سرکاری افسران کی ہیںیا ان کی سرپرستی میں ہیں۔ الطاف ساریو (ایڈیشنل ڈی جی ایم ڈی اے)مقامی ایم این ایز کو گھاس نہیں ڈالتے تھے، ان کے ناجائز کام میں رکاوٹ بن گئے جس کی بنا ء پر عوامی نمائندوں نے شہباز شریف کو غلط معلومات اور گمراہ کرتے ہوئے ان کا تبادلہ کرا دیا، تاکہ جعلی اور فراڈ ہاؤسنگسکیموں اور لینڈ سب ڈویژ ن کے سہنانے خواب دکھا کر عوام کی جمع پونجی چھینی جا سکتے۔
ملتان سے تعلق رکھنے والے کمشنرعمران سکندر بلوچ ، جو یہاں کی مافیاز سے بخوبی واقف حا ل تھے، انہوں نے ذمہ داریاں سنبھالتے ہی غیر قانونی رہائشی کالونیوں کے بڑھتے ہوئے رحجان کا نوٹس لیا، کئی مواقع پر انہوں نے ایم ڈی اے کے افسران کو غیر ذمہ داربھی قرار دیا۔ آخر12مارچ کو کمشنر ملتان ڈویژن و ڈی جی ایم ڈی اے عمران سکندر بلوچ نے غیر قانونی رہائشی کالونیوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایم ڈی اے کو 214غیر قانونی کالونیوں کے مالکان کے خلاف فوری مقدمات درج کرنے کے احکامات جاری کردئیے۔ کمشنر ملتان نے کمپیوٹرائزڈ لینڈ ریکارڈ سنٹر ز پر تمام غیر قانونی کالونیوں کی کھیوٹ بلاک کر کے خرید و فروخت پر بھی پابندی لگانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ کھیوٹ بلاک کر کے انتقال اور رجسٹریاں فوری روک دی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بغیر نقشہ اور بائی لاز کے رہائشی کالونیاں بنا کر عوام کو لوٹنے والوں کے خلاف مرحلہ وار کارروائی کا آغاز کیا جاچکا ہے۔ پلاٹ کا لالچ دے کر کسی لینڈ مافیا کو عوام کو لوٹنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ کمشنر ملتان نے واضح کیا کہ لینڈ مافیا کے خلاف کارروائی کے دوران کسی شہری کو بھی بے گھر نہ کیا جائے گا۔ تمام غیر قانونی ہا?سنگ کالونیوں کو بائی لاز پورے کرنے کا پابند بنا کر قانون کے دائرے میں لائیں گے۔
کمشنر ملتان عمران سکندر بلوچ نے مزید کہاکہ214غیر قانونی کالونیوں میں 10کالونیوں کے مالکان پر ایف آئی آر درج کروائی جاچکی ہے جبکہ 204کالونی مالکان پر جلد ایف آئی آر درج کروادی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایم ڈی اے کی ویب سائیٹ پر غیر قانونی کالونیوں بارے مکمل تفصیل موجود ہے جبکہ متعدد بار اخبارات میں اشتہار بھی دئیے گئے ہیں۔
کمشنر ملتان عمران سکندر بلوچ نے کہاکہ دوسرے مرحلے میں ایم ڈی اے ان ہا?سنگ کالونیوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کرے گی جنہوں نے صرف ابتدائی منظوری لے رکھی ہے جبکہ باقاعدہ منظوری بارے کارروائی مکمل نہ کی ہے۔ ایسے تمام ڈویلپرز جلد از جلد اپنے کاغذات مکمل کروائیں تاکہ ان کی کالونی کو قانونی قرار دیا جاسکے۔ کمشنر ملتان عمران سکندر بلوچ نے کہاکہ ایم ڈی اے بلا امتیاز غیرقانونی سکیموں کے خلاف سخت کارروائی کررہا ہے اس لئے عوام بھی ان کالونیوں میں پلاٹ خریدنے سے اجتناب کرے۔ ایسی کالونیوں میں کسی قسم کی تعمیرات کی نہ اجازت ہے اور نہ وہاں بنیادی سہولیات دی جاسکتی ہیں۔
یہ بات ہم سب کے لئے باعث حیران کن ہے کہ یہ 214غیر قانونی رہائشی کالونیاں راتوں رات پیدا نہیں ہوئیں، مگر متعلقہ ادارہ MDAنے ان ناجائز سرگرمیوں کو نہ روکا۔ایم ڈی اے کے افسران فراڈ کرنے والے اسٹیٹ ڈویلپرز سے اپنا ساجھا لے کرعوام کو لٹتا دیکھتے رہے۔دیگر مافیاز کی طرز پر ان غیرقانونی رہائشی کالونیوں کے کاریگروں نے اپنی غیر رجسٹرڈ یونین بنا رکھی ہے۔ یونین یونین کھیلتے ہونے یہ اپنے جرائم چھپانے کے لئے ایک دوسرے کی مبالغہ پر مبنی تعریفیں کر کے سرکاری افسران اور عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش میں مصروف ہو چکے ہیں۔ ان لوگوں نے اب ڈی جی ایم ڈی اے کی مستقل تعیناتی کا بھی مطالبہ کر دیا ہے۔ جب کہ گزشتہ کئی برسوں سے یہ سیٹ خالی ہے ۔ان کی خواہش ہے کہ ان کی کالونیوں میں 60فٹ روڈ کی شرط بھی ختم کر دی جائے، تاکہ یہ لوگ من مانی کر سکیں۔
گزشتہ دو دہائیوں سے ایم ڈی اے کی طرف سے کوئی نیا ترقیاتی اور رہائشی منصوبہ سامنے نہ آنے کیوجہ سے پرائیویٹ رہائشی کالونی مافیا نے جنم لیا ،جس میں راضی مالکان اور پراپرٹی ڈیلرز غلط تاثر دے کر کہ ان کی کالونیاں ایم ڈی اے سے منظور شدہ ہیں۔لوگوں سے پیسے بٹورنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ہم ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جن کی اپنی رہائش کرایہ داری پر ہے لیکن عوام سے فراڈ کرنے کے لئے فرضی رہائشی کالونی کے مالک ہیں۔جن کی تشہیر بھی سر عام ہوتی ہے۔ملتان کے ایسے کاریگر اور ماہر مافیا اسٹیٹ ڈویلپرز بھی موجود ہیں جو گوادر کی زمین ایک کمرے کے دفتر میں بیٹھے بیچ چکے ہیں۔پھر ان کا دعویٰ ہے کہ ملکی ریونیومیں اضافہ کر رہے ہیں۔جب کہ اسی فیصد کالونی مافیا کو رہائشی کالونی کی منصوبہ بندی کے ’’ابجد‘‘ کا بھی علم نہیں۔ان لوگوں کو ایک کنال رقبہ خرید کر پوری کھیوٹ فروخت کرنے کی ملکہ حاصل ہے۔ ایسی نمائشی کالونیوں کی دیکھ بھال اور بدمعاشی کے لیے ریٹائرڈ پولیس والے اور حاضر سروس پٹواری نوکری پر رکھے ہوئے ہیں، جو زیادہ بولنے والے کا منہ بند کرا دیتے ہیں۔ 20فیصد اسٹیٹ ڈویلپرز جو ایمانداری کے ساتھ رہائشی منصوبے تعمیر کر چکے ہیں، وہ قابل تحسین ہیں، ان کی حوصلہ افزائی اور ایم ڈی اے کی طرف سے راہنمائی کی جانی چاہئے۔
ہماری کمشنر ملتان سے گزارش ہے کہ ایم ڈی اے سکٹریٹ میں ایک کاؤنٹر قائم کیا جائے جہاں نئے ڈویلپرز کی راہنمائی اور رہائشی منصوبوں کی فائل کی تیاری ارزاں داموں سہولت دی جائے۔اب یہ عوام کی ذمہ داری ہے کہ غیر قانونی رہائشی سکیموں میں پلاٹ نہ خریدیں، خریدے گئے پلاٹوں کی بابت کمشنر ملتان اور نیب ملتان کو آگاہ کریں۔ کمشنر ملتان نے واضح پیغام میں کہا ہے کہ شہری ملتان میں کسی بھی پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیم میں پلاٹ خریدنے سے قب