اسلا آباد:  حکومت پاکستان نے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ہمارا ہائی کمیشن مقامی حکام سے مسلسل رابطے میں ہے۔  نیوزی لینڈ میں تعینات پاکستان کے ہائی کمشنر ڈاکٹر عبد المالک نے بتایا کہ حملے میں کسی پاکستانی کے جاں بحق یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی، نیوزی لینڈ میں زیر تعلیم طلبہ کے ساتھ رابطے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے فون پر بات چیت کرتے ہوئے کہا پاکستان نے نیوزی لینڈ میں ہائی کمیشن کے پولیٹیکل منسٹر سید معظم کو فوکل پرسن مقرر کر دیا ہے، نیوزی لینڈ میں مقیم پاکستانیوں کی خیریت کے بارے براہ راست ان سے رابطہ کر کے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مساجد میں دہشتگردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ پاکستانی عوام کی ہمدردیاں نیوزی لینڈ کی عوام کے ساتھ ہیں، بنگلادیش کرکٹ ٹیم حملے میں محفوظ رہی، پاکستان بھی کچھ سال قبل ایسی ہی صورتحال سے متاثر ہوا تھا، پاکستان اس طرح کے واقعات کا درد سمجھتا ہے۔ یاد رہے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 2 مساجد پر فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق اور  زخمی ہوئے، مسلح شخص نماز جمعہ کے بعد مسجد میں داخل ہوا اور خود کار ہتھیار سے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ حملہ آور نے کئی بار گن ری لوڈ کی اور مختلف کمروں میں جا کر فائرنگ کرتا رہا۔ مقامی میڈیا کے مطابق حملہ آور اس دوران ہیلمٹ پر لگے کیمرے سے ویڈیو بناتا رہا اور انٹرنیٹ پر براہ راست دکھاتا رہا۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آڈرن نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک کا سیاہ ترین دن قرار دیا اور کہا مسجد پر فائرنگ کا واقعہ دہشتگردی ہے۔ پولیس نے ایک شخص کو حراست میں لے کر گاڑی سے اسلحہ برآمد کرلیا۔ حکام نے آج کے دن کرائسٹ چرچ پر سفر کی پابندی لگا دی جبکہ لوگوں کو مساجد سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہر میں گرجا گھروں اور سکول بند کر کے ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے واقعے میں متعدد افراد کو گولیاں لگی ہیں جن کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔