خواب دیکھنے والی آنکھوں کے نام

نصرت جبیں ملک

کچھ دیر کے لئے میرے ساتھ چلئے 23 مارچ 1940 کے اس منظر کا حصہ بننے جو اگر محسوس بھی کریں تو رگ و جاں میں فخر و تحسین کے جذبات امڈ آتے ہیں ۔منٹو پارک لاہور، ایک پر ہجوم اجتماع، ایک ہی سوچ پر متفق، ایک ہی خیال کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے بےتاب، سامنے ایک وسیع سٹیج، برصغیر سے تعلق رکھنے والے اہم مسلمان رہنما موجود، ایک نعرہ، ایک نظریہ، ایک مقصد،ایک منزل مرکز نگاہ، نہ جھکنے کا عہد نہ بکنے کا عزم، میرے ہمراہ اپنے دل کو اس بات پر آمادہ کیجئے کہ آپ بھی اس منظر کا حصہ ہیں ۔اس سٹیج سے پندرہ بیس فٹ دور عوام کے پرہجوم اجتماع میں موجود ہیں ۔مسلم لیگ کا پرچم آپ کے ہاتھ میں ہے، محسوس کیجئے کہ یہاں آنے سے پہلے تک آپ کو ناپاک اور اچھوت کے لقب سے نوازا جا چکا ہے، آپ کے کسی عزیز کوقابلیت کے باوجود ملازمت کے لئے نااہل قرار دیا جا چکا ہے، محلے میں رہنے کے لئے آپ پر ” محلہ چھوڑ دو
یا اسلام چھوڑ دو “کی شرط عائد کر دی گئی ہے ۔کچھ روز قبل آپ کے بچے کو بغیر کسی وجہ کے سکول سے فارغ کر دیا گیا ہے ۔آپ گزشتہ کئی راتوں سے اس لئے نہیں سو سکے کہ ظلم و ستم کی آگ کسی لمحے آپ کی بہن یا بیٹی کے آنچل کو نہ جلا دے ۔تحریر وتقریر کی آزادی فراہم کرنے کا دعوٰی کرنے والوں نے کل آپ کی آنکھوں کے سامنے فقط الگ وطن کا نعرہ لگانے والے ایک نوجوان کوگولیوں سے چھلنی کر دیا تو دوسرے کو گھسیٹتے ہوئے اپنے اپنے ساتھ لے گئے ۔آپ ہندو سادھو سے قرض لے کر سود در سود قرض کی دیوار میں چنے جا چکے ہیں ۔آسمان پر آپ جا نہیں سکتے اور زمین آپ پر اس قدر تنگ کر دی گئی ہے کہ کشادہ جسم کے اندر سانس بھی گھٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے انہی مصائب کو اٹھائے ہوئے آپ اس جلسے میں آئے ہیں ۔بر صغیر کی تاریخ کے ایک اہم اجتماع میں، اچھے دنوں کی طرف کھلنے والے تابناک باب کا حصہ بننے، امید نو کے خواب کاشت کرنے ،ایک الگ وطن کی آبیاری کرنے جہاں آپ کے بعد آپ کی نسلیں زندگی گزاریں گی۔وہ خوا بوں کا پاکستان حقیقت میں بسانا ہے “ایک مکمل اسلامی ملک، مضبوط اتنا کہ کسی نمرود و فرعون کا لشکر اس پر چڑھا ئی نہ کر سکے گا، جس کا آئین احکام نبوی کے مطابق ہو گا ۔نظام حکومت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرز خلافت کے سانچے میں ڈھلا ہو گا ،سربراہ حکومت بہادری میں حضرت علی رضی اللہ عنہ، نرم دلی میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور سادگی میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کا عکس ہوں گے ۔عدالت مظلوم کی دہلیز پر لگا کر ے گی ہر مجرم خواہ امیر ہو یا غریب اس کے لیے انصاف میں تمیز نہیں کی جائے گی ۔سب سے بڑی عدالت واقعی اللہ تعالٰی کی سمجھی جائے گی، تعصب اور فرقہ بندی کی جڑیں پنپنے کے لیے اس زمیں پاک میں کوئی جگہ نہیں ہو گی ۔اعوان، جٹ، ٹوانہ،اور راجپوت کی بجائے سب سے بڑی ذات انسانیت سمجھی جائے گی ۔امارت پر ذہانت کو فوقیت دی جائے گی، اور اس طرح نئی زمین سے وابسطہ نجانے کتنے ہی خواب جڑتے ہی چلے جائیں گے لیکن خواب دیکھے تو جا سکتے ہیں مگر خوابوں میں رہا نہیں جا سکتا واپسی بحر حال حقیقت میں ہی ہوتی ہے ۔وہ خوا بوں کا پاکستان جو14اگست 1947تک ہر شخص کی آنکھوں میں تھااوجھل ہو چکا ہے وہ خواب دیکھنے والی زیادہ تر آنکھیں بھی بجھ گئی ہیں قرار داد لاہور نے قرار داد پاکستان کی شکل اختیار کر لی جلسہ گاہ میں موجود سٹیج کو سنگ مر مر سے مزین مینار کی شکل دے دی گئی، منٹو پارک لاہور کی پیشانی پر اقبال پارک لاہور کی تختی لگا دی گئی ۔پھر سانحہ یہ ہوا کہ پاکستان نے آنکھیں کھولیں تو بانی پاکستان نے آنکھیں بند کر لین،اور خود غرضی نے ہماری آنکھوں پر پٹی باندھ دی، ہم مال و دولت کی محبت میں مبتلا ہو گئے، شیعہ، سنی اور وہابی کے نام پر لڑنے لگے، صوبائی تعصب نے ہمارے اندر جگہ پا لی، حرص وحوس کے جراثیم ہمارے رویوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں، دشمنوں نے ذرا سی پیش قدمی کی تو بنگال ہم سے دور جا گرا، مظلوم انصاف کی تلاش میں کبھی عدالت تو کبھی بڑے ، چھوٹے تھانیدار تو کبھی پنچائیت کے در پہ جوتیاں چٹخ رہا ہے ۔کاش واقعی کوئی ایسا طریقہ ہوتا کہ ہم 23 مارچ 1940 کے دن لوٹ جاتے اسی سٹیج سے کچھ فاصلے پر بیٹھ کر جہاں اپنے رہنماؤں کے ساتھ تشکیل پاکستان کے لیے جدوجہد کا عزم کرتے تو وہاں یہ وعدہ بھی کرتے کہ ہم اپنے ضمیر کو خود پر حاوی رکھیں گے پاکستان کے ساتھ مخلص رہیں گے اور پاکستان اپنی اگلی نسل کو سونپتے ہوئے ان سے بھی یہی وعدہ لیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔۔۔گزر ے دنوں کی سمت پلٹنا ناممکن ہو تا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر بھی اگر آپ کبھی لاہور جائیں تو اقبال پارک لاہور کو منٹو پارک کی نظر سے ضرور دیکھئے گا، مینار کی جگہ 1940 والی بڑی سٹیج ضرور تصور میں لائیے گا اس سے آپ تو کئی عشرے پہلے نہ لوٹ سکیں لیکن اس دور کے کچھ احساسات ضرور آ کر آپ سے دامن گیر ہو جائیں گے ۔آپ اندر کی دنیا میں کچھ تبدیلی محسوس کریں گے اور ہر فرد میں اتنی ہی تبدیلی کی پاکستان کو ضرورت ہے