یہ دوستوں سے میرا سوال بھی ہے اور میرا جواب بھی کہ پاکستان کی سیاسی پس منظر میں جوانی سے بڑھاپے تک کا سفر میرے ہم عمروں کا کیسے گزرا؟

آج کی بات

شاہ باباحبیب عارف کیساتھ

2018 کے الیکشن سے سلیکشن تک کی کہانی کا تو سب پاکستانی ایمانداروں کوپتہ ہے کیونکہ

پاکستان عمرکے لحاظ سے مجھ سے 12سال بڑا ہے یعنی پاکستان کی آزادی کے 12سال بعد 3اگست سن 1959 کو میری اس دُنیا میں آمد ہوٸی تو جنرل ایوب خان کی حکمرانی تھی اور یقین کجیٸے گا کہ ایسی حکومت کسی بھی پاکستانی ڈیکٹیٹر کو نصیب نہیں ہوا ہے ایوب خان کو فیلڈ مارشل تھا اور یہ فیلڈ مارشل اعزاز موجودہ دُنیا میں صرف تین یاچار بندوں کے نام ہے اور یہ اِس دُنیا کاسب سے بہت بڑا اعزاز ہے جو سپہ سالار جنگ جیت تھا ہے وہی فیلڈ مارشل کہلانے کا سچا حقدار کہلاتا ہے اور اُس نے کمال سپہ گری سے سن 1965جنگ لڑا اور ایسا کرتب سے لڑ کر جیتا جسکی خوف سے آج بھی دُشمنوں کے دل میں موجود اورترو تازہ ہے جس سے یخیٰی ۔ضیإ اور مشرف محروم رہے اور سب سے بڑی بات جسکے لیے میں آج تڑپ رہاہوں وہ ہے ترقی خوشحالی اور بہتری عوام بھلے ہی غریب تھے لیکن اَمن و سکون سے رہ رہے تھے اُسکے بعد ہمیں جنرل یحیٰی خان کی خوبصورت شکل میں ایک عاشق مزاج اور مدہوش بادشاہ بھی دیکھنے کو ملا یہ دور بھی تاریخ کا ایک بھیانک حصہ ہے جو میرے خیال میں غداری سے کم نہیں جسکی وجہ سے مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا اور پھر ذوالفقارعلی بھٹو جیسا دوراندیش لیڈر کا چمتکار بھی دیکھا آیا اورچھایا ایک بہترین لیڈر کی صورت میں عوام کے دلوں میں جسطرح آج بھی زندہ ہے ویسے ہی اُس وقت عوام کے دلوں میں گھر کر گیاتھا اُس نے بہترین داخلہ اور خارجہ سیاست کی اس ملک کو ڈاکٹرقدیر سے ملکر اس قوم کو ایک نعرہ دیا کہ بھوکے رہینگے گھاس کھاٸینگے لیکن اس ملک کو مضبوط بناٸینگے آج بھی جب طاقت کی بات چلتی ہے تو اُسی ذوالفقارعلی بھٹو کا نام بڑے بڑے لوگ لیتے ہیں لیکن ہمارے دوست کبھی بھی پاکستان میں اَمن اور بہتری کے خواہاں نہیں وہ اپنے مفادات کے لیے بلکہ دُنیا پرحکمرانی کے لیے جو کھیل مُسلم اُمہ سے کھیلا اُس میں پاکستان کے علاوہ مُسلم اُمہ کے رہنما ٕبھی شامل ہے جسکا آج تک ہم خمیازہ پوری مُسلم اُمہ بھگت رہی ہے یہ بات یہی پر ختم تو ہے نہیں لیکن اِسے اس وقت یہی پر آدھورا چھوڑتے ہیں کیونکہ بات پاکستان کےحکمرانوں کی حاکمیت کی ہورہی تھی تو بھٹو کو بے گناہ ایک قتل کے کیس میں جنرل ضیإ الحق کی مارشلإ نے تختہ دار پر چڑھادیا اور یوں یہ خونریزی کی اور بدنامی کی سیاست صرف پاکستان ہی میں نہیں اِس سے مُسلم اُمہ کی پوری تاریخ بھری پڑی ہے کربلا آج بھی موجود ہے سچ اورحق کے لیے جو لڑینگے وہ یاد کیٸے جاتے ہیں اُنکو تاریخ بھی اگر ضمیر کے قیدیوں کی لکھی ہوٸی ہو ہمیشہ سُنہرے الفاظ میں یاد کرینگے کیونکہ دُنیا کی سیاست نے تاریخ مسخ کرلیا ہے بلکہ تاریخ پر کالک مَل لیا ہے یہاں سچ کی زبان چل نہیں سکتی کیونکہ جھوٹ ایسے انداز میں بولا جاتا ہے جس پر نٸے نسل کا ہی نہیں ہم بھی یقین کر لیتے ہیں
آفغانستان جہاد میں کُودنا طالبان روس پھر ضیإالحق کا ہواٸی جہاز کرش ہونا اور پہلی بار ایک کم عمر دُخترمشرق مسلم خاتون وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے حکومت کو نواز شریف نے چلنے نہیں دیا اور پھر نواز تشریف تخت نشین ہوٸے اور یہ تخت جنرل مشرف نے پہلے ہی سے نمونیہ میں مبتلا کرکے خود قبضہ کرلیا اور یہی سے آگ اور خون کے رفتار نے زور پکڑ لیا پھر کیا ہوا اُسی دہشتگردی نے ایک اورخون کیا جنرل مشرف کے دورحکمرانی میں یہ سب سیاسی اُتار تو آج تک جاری ہے اور جاری رہیگا
لیکن کیا ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سیاست کایہ معیار ہے کیا یہ اس ملک اور قوم کیساتھ غداری نہیں
اسلام کے نام پر دہوکہ نہیں یہ ہے وہ ملک جو لاالہ الااللہ کے نام پر آزاد ہوا تھا یہ شرمندگی اور بے شرمی و بدنامی اور ذلالت کی سیاست بہت دیکھ لیا اور اَب تبدیلی سرکار وزیراعظم عمران خان تک کے حکمرانوں سے پالا پڑا لیکن عمران خان کے حکمرانی میں عوام کے درمیان جو تضاد پیدا ہوا وہ کسی اورحکمران کی حکمرانی میں اتنا شدید نہ تھا میں یہ بھی نہیں کہتا کہ باقیوں نے عوام کو بیوقوف نہیں بنایا سب نے اس ملک اورقوم سے کسی نہ کسی مصلحت کے تحداُنہوں نے اس ملک اورقوم کا سودا کیا ہے ناظم الدین اورغلامحمد کی کہانی اور محمدعلی بوگرہ کی پاکستانی ریاست پرجلوہ افروزی اور پھر سکندرمرزا کانزول اورایوب خان کی یلغار اورپھر انقلابِ ذوالفقار کی کامیابی اورپھر شب خُونِ ضیإ طوفانی مشرف وغیرہ وغیرہ جب تک زندگی باقی ہے یاد رہینگے
نوازشریف نے بھی اپنے دورِ حکمرانی میں بہت ترقیاتی کاموں کے علاوہ دباو کے باوجود ایٹمی دہماکے کرنا معمولی بات نہیں
لیکن عمران خان نے ایک ویژن اس قوم کودیا تھا کہ ملک و قوم اورنٸے نسل کو ترقی اورخوشحالی کی طرف گامزن کرنے اور تبدیلی لانے کرپشن اقرباپروری سے پاک شفاف میرٹ کے بیناد پر اس پرانے پاکستان کو ترقی کی نٸی راہوں پر رواں دواں کرکے ایک نیا پاکستان بنا کردونگا
سب پاکستانی قوم عمران خان کی حکمرانی میں کرپشن کے الزامات میں جیلوں سے یہ رہاٸی اور ہفتہ وار بریت یہ سب کچھ کیا ہے کیا پھر کوٸی پاکستان کو تعمیر وترقی بہتری اور خوشحالی کی سیاست میں کوٸی مداخلت نہیں کررہا ہے؟
اگر کسی کی پاکستانی سیاست میں مداخلت نہیں ہے تو خُدارا قیامت آنے سے پہلے پہلے پاکستانی قوم کو سچ سچ بتادے کہ پاکستان پر حقیقت میں کس کا حکم چلتا ہے قسم سے ابھی تو ہم بی آر ٹی پشاور کے غم سے فارغ نہیں ہوٸے تھے کہ ایک اور غم دیا گیا عمران خان اور قانون کے مطابق کرپشن کے الزامات ثابت ہونے کے باجود رہاٸی اور ہفتہ وار چھٹی کا تو سُنا تھا مگر ہفتہ وار ضمانت کا کبھی کسی سے سٹی میں بھی کسی سے نہیں سُنا تھا پر شاٸد ہمارے قانون میں کہی پس پردہ کہی پر ہفتہ وار سٹی کسی نے بجاٸی ہو
کیونکہ یہاں پاکستان میں جنرل ایوب خان کے دورِ حکومت میں ایک فوجی سپاہی ڈاکو محمد خان بھی گزرا ہے اوراِسکے بعد فرنگیوں کے دور میں ایک فوجی سپاہی عجب خان بھی گزرا ہے ؟
یہاں تو آزادی کے متوالے پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی بھی قتل ہوا تھا
اَب آپ سب دوست سچ سچ بتاٸیں کہ کیاکچھ نہیں ہوا اس ملک میں ہم کب تک یہ کھیل تماشہ دیکھتے رہینگے
آو ہم سب ملکر پھر سے پرانے پاکستان کاوہی پرانا نمونہ بن کر اس کو ترقی اور خوشحالی کے رنگ میں رنگ لے اس ملک کو اسلام کا ایکبار پھر قلعہ بناٸے جسطرح ذوالفقارعلی بھٹو کے دورسے لیکر ضیإ کے دور میں بھی پاکستان کو دُنیا اسلامی قلعہ کے نام سے یاد کرتے تھے
اگر مدینہ کی ریاستِ بنانے چلے ہو توپھر تو سب کو ساتھ لیکر چلنا ہوگا لیکن یاد رکھنا کہ مدینے کی ریاست و عمرؓ کی خلافت اور سلطنت عثمانیہ تاریخ کا لاجواب باب ہے وہ کوٸی کھیل تماشہ نہیں ہے ؟
کیونکہ اُس میں یہ 8 مارچ والے کھیل تماشے نہ ہوٸے تھے اور نہ کوٸی ایسی تماشوں کی کسی کو اجازت تھی اور نہ ایسے تماشے کرنے والے موجود تھے ایسی بے شرمی وبے حیاٸی تو پہلے انگلش فلموں میں بھی نہیں تھی ورنہ چارلی کی فلمیں اُٹھاکر دیکھ لیں پتہ نہیں دُشمن کو کیا سوجھی اور ہم یقین کرگٸے
کیونکہ ہم نے حق اور سچ کہنے والوں کو جھوٹا اور فریبی سمجھا اور جھوٹے اور فریبیوں کیساتھ دیا ہم نے جھوٹ اور سچ میں فرق کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کیا سبق سیکھنا چاہیٸے تھا ہمیں اور کیا سیکھا؟
امریکہ آفغانستان سے کیسے نکلے گا طالبان کس کی بات مانینگے سعودیہ اور ایران کا صُلح کیسے ہوگا یمن شام ۔فلسطین۔مصر۔ چین۔روس۔ بھارت۔ترکی ۔امریکہ ۔اسراٸیل۔آفغانستان اور پاکستان وغیرہ وغیرہ بس سب کے اپنے اپنے مفادات اورتحفظات ہے جسکا دفاع یہ سب ملکر اقوام کے خون سے کر رہے ہیں لیکن آخر میں ایک بات ضروری ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی رہاٸی اور ہفتہ واری آزادی پر عمران خان بلکل بھی خوش نہیں ہے یہ ایک تُلخ حقیقت ہے لیکن کیا کرے مجبوری ہے
البتہ میں خیبرپختونخوا میں بی آر ٹی پشاور کے منفرد انداز میں منعقدہ افتتاحی پرگرامز بدلتے ہوٸے جب دیکھتا ہوں
تومجھے ایک پاکستانی گانا یاد آتا ہے
کہ
جب کوٸی پیار سے بلاٸے گا
تم کو ایک شخص یاد آٸیگا۔