آج کی بات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاہ باباحبیب عارف کیساتھ

یارب دِل مُسلم کو وہ زندہ تمنادے

جہاں مذہب میں تصور میں آنے والی گناہ کی بھی معافی مانگی جاتی ھے وہاں جب بڑا گناہ کرنے والا توبہ کرنے کے بجاۓ اپنی گُناہ سے ہی انکاری ھو تووہاں پھر اسطرح کے سانحے رونما ھوتے ہیں

بہت عرصہ گُزرگیا اس سوچ وفکرمیں کہ اس بارے میں کچھ لکھوں گا لیکن پھر یہ ارادہ ترک کرلیتا ایک خوف اورایک ایسے الزام کے ڈر سے جو ایک مُسلمان کے لیے موت سے کم نہیں کیونکہ یہاں تو فتوہ لگانے میں سانس بھی نہیں لیتا لیکن مجھے میرے ضمیر نے اس پر لکھنے کے لیے مجبور کیا کہ حق اور سچ بات کرنے سے اللہ تعالٰیﷻ کابندہ اور نبی کریمﷺ کا اُمتی ڈر رہاھے شُکرالحمدُللہ کہ میں مُحمدﷺ کا اُمتی ھوں ختم نبوتﷺ پرمکمل یقین رکھتاھوں کہ محمدرَسُول اللہﷺ کو اللہ تعالٰیﷻ نے پورے عالم کے لیےرحمت کا ذریعہ بنایا ھے لیکن ھم اس سے بھی انخراف کرتے ھوۓ نظرآرھے ہیں آخری نبیﷺ جس پر مجھے فخرھے لیکن جب کوٸی ناخُوشگوار سانحہ رونماھوتاھے تواُس وقت ایک شرمندگی سی محسوس ھوتی ھے اسلیے اسکا اظہاراَب مجھ پر فرض ھے کہ اللہ تعالٰیﷻ اس سلسلے میں اپنے بندے کو کیاحکم دیتاھے اور اس سلسلے میں ہمارے پیارے نبیﷺ کاکیا ارشاد ھے یاقُران پاک کے ذریعے اس بارے میں ہمیں کیاہدایت دی گٸی ھے اگرہمارے قابل قدرعُلما ٕکرام ٹھنڈے دل سے تھوڑی دیر کے لیے سوچے تویقین کجیٸے دُنیا کے کونے کونےمیں پُراَمن اور پُرسکون زندگی گزرے گی اگر ھم نے اپنے اسلام کا وقار اورعظمت بڑھاناھے تو پھر ہمیں نبی کریمﷺ کے نقشِ قدم پرچلناھوگا اغیار دُشمن کے اشاروں پرنہیں جس نے اول توہمیں آپس میں ٹکرایا اورپھرایک ایسا فتنہ مُسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کے لیے اُٹھایا جس سے قادیانیوں کو ہمدردی ملی ایک ایسے دُشمن کی جوکبھی بھی اسلام کے دُوست نہیں رھے ہیں اوریوں مُسلمانوں کوکمزور کرنے کے لیےانسانیت کی طرف دُنیاکواپنے طرف متوجہ کیا کیونکہ ہمارے مذہبی رہنماوں نے ہمیشہ جذبات سے کام لیاھے اور کچھ علما ٕ ہمارے سیاسی میدان میں اُترے جس سے مذہب کواستعمال کیاگیا اللہ تعالٰیﷻ کے پاک کلام کوذریعہ بناکےاورپیارے نبی مُحَمَّد ﷺ کے نام پر تواسی وجہ سے بھی ہمارے عُلمإ پر اُنگلیاں اُٹھنے لگی ہماری سیاست اگرھم دیکھے تو اسکا بھی ہمارے سیاستدانوں نےحلیہ ہی بگاڑ کے رکھ دیا سیاست ایسی ھرگز نہیں تھی جسطرح ہمارے سیاستدانوں نے پروان چڑھایا جس سے نٸے نسل کو ایک غلیظ سیاست ورثے میں ملی جو نبی کریمﷺ کی سیاست نہیں یہ اُمتیِ رَسُول کاشیوہ نہیں مدینہ کی ریاست میں ھر مذہب کوھرقسم تحفظ فراہم کرنے کا حکم ہمارے پیارے نبی مُحمدﷺ نے دیاتھا بوڑھے جوان خواتین اوربچوں کے خیال رکھنے کی ہدایت کی تھی مندر۔۔گرجہ۔۔چرچ کے خیال رکھنے کی بھی بھرپور طریقے سےاظہارکیاتھا
پھر قرآن مجید میں بھی اللہ تعالٰیﷻ نے سُورة یااَیھا الکفارونَ میں فرمایا ترجمہ کہ تمہارے لیے تمہارا دین اور اُنکے لیے اُنکادین اور اسکے باوجود بھی ہمارے مُسلمانوں کے معمار ایک دوسرے کے مسلک اور عقیدوں کوچیڑتے ہیں جب اللہ تعالٰیﷻ کاحکم اور نبی کریمﷺ کا ارشاد ھے تو اس پر عمل کیوں نہیں کیاجاتا چلوں یہ تو طے ھے کہ قادیانی ہمارے نبیﷺ کے نبوت سے انکاری ھے توسب نے کافر تسلیم کرلیا اَب یہ مسلہ رہ گیا کہ ایک گُستاخ کی سزا پھانسی ھے بلکل ھونی چاہیٸے یہ حکومت وقت کی ذمداری ھے کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے مطابق اسے سزا دے جس پر قانون بنانے والے تمام اداروں پر بھی ایک سوالیہ نشان ھے جسکی وجہ سے یہ بدمزگی پیداھوٸی ھے اور اس آپس کی بدمزگی کو دُشمنوں نے ہماری کمزوری سمجھ کر بھرپورفاٸدہ اُٹھایا جسکی وجہ سے مُسلمانوں کو پوری دُنیامیں ایک دہشتگردکے طورپرپیش کیا ہمیں تو یہ حکم بھی ھے کہ آپس میں ایکدوسرے پر سلام ڈالاکرے جسکا مطلب ھے کہ تم پراللہ کی سلامتی ھو لیکن پھر بھی ھم ایکدوسرے کوسلامت نہیں چھوڑتے یہی ایک مومن مُسلمان اُمتی کی نشانی ھے لیکن ایک مذہبی جماعت ایساھے جسکاکسی بھی سیاسی مقاصد یاکسی سے سیاسی تعلق بلکل نہیں وہ ھے تبلیغی جماعت وہی مُحمدﷺ کے طریقوں پرچلنے کی دعوت دُنیاکے کونے کونے تک پہنچارھے ہیں اور اگر میں یہ کہوں کہ پوری دُنیامیں تبلیغی جماعت کو قدرکی نگاہ سے دیکھاجاتا ھے توغلط نہ ھوگا یہی اصل کام ھے جوھرمُسلمان اُمتی پر فرض ھے پیارومُحبت سے اسلام کی طرف دُنیا کو متوجہ کرنا نفرت اوربدنیتی سے کوٸی بھی اسلام کی طرف راغب نہ ھواھے نہ کبھی ھوگا ہمیں دلیل سے اسلام کاپیغام دُنیاکے کونے کونے تک پہنچانے کے لیے اپنے پیارے نبی ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنا ھوگا جس پر ہمارے مذہبی رہنماوں کیساتھ ساتھ مُسلم اُمہ کوبھی عمل کرنا ھوگا پھرکوٸی بھی ماٸی کالال نہ ہمارے نبیﷺ کی شان میں گُستاخی کامرتکب ھوگا اورنہ کوٸی دُشمن اس سے سیاسی فاٸدہ اٹھا سکے گا اگر ھم یہی سوچیں کہ اسلام کو پھپلانے میں ہمارے پیارے نبی ﷺ نے کیسا کردار ادا کرکے کامیابی حاصل کی تھی جسکو دُشمن بھی تسلیم کرتا ھے ھم کب تسلیم کرینگے یہ بات ابھی باقی ھے جس پر سوچنے کی ضرورت ھے یہ ہمارے اسلام کے وہ اقدار ھے جو ہمیں سکول میں بچپن میں سکھاۓ اور سمجھاۓ جاتے تھے یہی اسلام ھے یہی اللہ تعالٰیﷻ کافرمان ھے یہی نبی کریمﷺ کا طریقہ ھے اوریہی ہمیں قُرآن مجید میں ہداہت کیا گیا ھے