واشنگٹن،اسلام آباد(عباس ملک) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے استعفے کی باتیں غلط ہیں، میں کہیں نہیں جارہا،وزیراعظم کے بغیر بیرون ملک جاتا ہوں تو ایسی باتیں کی جاتی ہیں، وزیراعظم نے کہا تھا پاکستان کو تمہاری ضرورت ہے ،آئی ایم ایف کے ساتھ اصولی اتفاق ہوگیا ہے ، پروگرام جلد شروع ہوگا ، اس سے پاکستانی معیشت میں بہتری آئے گی،آئی ایم ایف کا مشن اگلے چند ہفتوں میں پاکستان آئیگا ،تیکنیکی اور قرضے کی تفصیلات جلد طے ہو جائینگی ،معیشت میں استحکام میں مزید ڈیڑھ سال کا عرصہ لگے گا ،حکومت کے تیسرے سال سے ترقی کا آغاز ہوگا،ہمیں ادائیگیوں میں توازن کے بحران کا بار بار سامنا ہے اور مجھے کوئی ایسی حکومت یاد نہیں پڑتی جسے ادائیگیوں میں توازن کے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو اور اس نے آئی ایم ایف سے مدد طلب نہ کی ہو،بھارت کیساتھ مسائل اور تجارت پر بات چیت کا ارادہ ہے ، امید ہے نئی دہلی کی نئی حکومت ہمارے ساتھ بیٹھے گی،ترکی کیساتھ سٹریٹجک اکنامک فریم ورک پر ایک ماہ میں دستخط کریں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے واشنگٹن میں میڈیا اور پاکستانی کمیونٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔میڈیا سے گفتگو کے دوران صحافی نے ان کے استعفے سے متعلق زیر گردش افواہوں سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے اس کا جواب شعر پڑھ کردیا، ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے ۔اسد عمر نے کہاآئی ایم ایف کی شرائط سے پہلے ہی بنیادی تبدیلیاں کی جا چکی ہیں اور اگلا کام بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کا کرنا ہے ، ہم پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کی اصلاحات پر یقین رکھتے ہیں،کچھ فیصلے اور لوگ ہیں جن کی وجہ سے پاکستان آئی ایم ایف کے پاس گیا، پی پی اور ن لیگ کو بھی جانا پڑاتھا۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا خطرناک حد تک ادائیگیوں کے توازن کا بحران تھا جس سے نمٹنے کیلئے اقدامات کیے اور قیمتوں میں اضافے سے متعلق اقدامات پہلے ہی کیے جا چکے ہیں، ہم نے آپشنز پیدا کیے تھے اسلئے فوری طور پر آئی ایم ایف سے معاہدہ نہیں کیا، معیشت میں ایسے اقدامات کرنے پڑتے ہیں،پہلے آئی ایم ایف کی تجاویز پاکستان کی معیشت کیلئے بہتر نہیں تھیں، اس لئے اس وقت تک معاہدہ نہیں کیا جب تک وہ ہمارے سامنے ایسی تجاویز نہ رکھے جو معیشت کی بہتری کیلئے ہوں۔وزیر خزانہ نے بتایا فروری میں جاری کھاتوں کا خسارہ پچھلے سال کے مقابلے میں 72 فیصد کم تھا اور ہر ماہ تجارتی خسارے میں کمی آرہی ہے اور قلیل مدتی فنانسنگ کا بھی انتظام کرلیا ہے ۔ان کا کہنا تھا علاقائی تجارت سے خطے کے عوام کی بہتری ہوگی، ترکی کے ساتھ سٹریٹجک اکنامک فریم ورک کا ڈرافٹ تیار کرلیا ہے ، جس پر ایک ماہ میں دستخط کریں گے جبکہ ترکمانستان کے ساتھ گیس پائپ لائن معاہدہ ہوچکا ہے ، افغانستان کے وزیرخزانہ اور تاجکستان کے نائب وزیر خارجہ سے ملاقات ہوئی، دونوں ممالک کے ساتھ تجارت بڑھا سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا حکومت کی 5سالہ مدت کے 3مراحل ہیں، پہلے مرحلے میں ابتدائی چند ماہ میں اپنی بقا کی جنگ لڑنا تھا اور اللہ کا شکر ہے کہ وہ مرحلہ کامیابی سے گزر گیا ،اب ہم استحکام کے مرحلے میں ہیں، اقتدار میں آنے کے ایک ماہ بعد ستمبر میں اندازہ لگایا تھا ہمیں ملکی معیشت میں استحکام کیلئے 2سال اور تیسرے سال سے ترقی کا آغاز ہو گا جو میرے خیال میں اب بھی ایک اچھا اندازہ ہے ۔اسد عمر نے کہا ہمیں اس بات پر یقین ہے کہ اس مرتبہ اقتصادی ترقی پائیدار ہو گی اور یہ مالی خسارے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے متاثر نہیں ہو گی۔انہوں نے کہا 1988، 1999، 2008، 2013 اور 2018 میں بحرانی صورتحال ایک ہی طرح کی تھی، اس کا مطلب یہ ہے ڈھانچے میں کہیں نہ کہیں کوئی غلطی ہے ۔وزیر خزانہ نے کہا پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری کے خاطر خواہ مواقع موجود ہیں، اسکے فروغ کے لیے سہولیات دے رہے ہیں، کاروبار کے لیے آسان ماحول کی دستیابی ترجیح ہے ۔پاکستانی نژاد امریکی بھی کاروباری مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں، برآمدگی شعبے کی کارکردگی بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔وزیر خزانہ نے ملک کی موجودہ معاشی صورت حال سے پاکستانی بزنس کمیونٹی کو آگاہ کیا۔علاوہ ازیں وزیر خزانہ نے جمعہ کو سعودی وزیر خزانہ ، امریکی وزارت خزانہ کے حکام ، ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر اور عالمی بینک کے صدر سمیت مختلف رہنماؤں سے ملاقات کی جس میں حکام کو ملک کی معاشی صورتحال ، اصلاحات اور منی لانڈرنگ کیخلاف اقدامات اور قانون کے سخت اطلاق پر بریفنگ دی گئی ۔وزیر خزانہ نے سعودی وزیر خزانہ محمد بن الجادان سے ملاقات میں پاکستانی تعمیراتی ورکرز کی تعداد میں اضافہ پر بات چیت کی ،امریکی وزارت خزانہ کے حکام کو ملک کی معاشی صورتحال اور اصلاحات پر بریفنگ دی گئی۔عالمی بینک نے پاکستان میں جاری اصلاحات کو سراہتے ہوئے پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی ، یہ یقین دہانی عالمی بینک کے نئے صدر نے آئی ایم ایف و عالمی بینک کے سالانہ اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر سے ہونیوالی سائیڈ لائن ملاقات میں کرائی ۔وزیر خزانہ کی عالمی بینک کے نائب صدر جنوبی ایشیا ہارٹ وگ سیکفر سے ملاقات میں عالمی بینک کے پاکستان میں سرمایہ کاری پروگرام پر غور کیا گیا،جاری منصوبوں کے علاوہ عالمی بینک کی طرف سے مستقبل میں نئے شعبوں میں امداد فراہم کرنے پر بات چیت کی گئی۔ وزیر خزانہ نے عالمی بینک کے ذیلی ادارے میگا کے چیف آپریٹنگ آفیسر وجے آیار سے بھی ملاقات کی، حکومت کی نجکاری پالیسی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ فریم ورک کی وسعت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر تاکہی کو ناکا نے پاکستان میں اصلاحاتی عمل کو سراہا اور بینک کی طرف سے تعاون جاری رکھنے کا یقین دلایا۔فریقین نے رابطے آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ اسد عمر کچھ فیصلوں اور لوگوں کی وجہ سے پاکستان آئی ایم ایف کے پاس گیا ، ہر ماہ تجارتی خسارے میں کمی آرہی ہے ، معیشت میں بہتری آئیگی ،حکومت کے تیسرے سال سے ترقی کا آغاز ہوگا بھارت کے ساتھ مسائل اور تجارت پر بات چیت کا ارادہ ہے :واشنگٹن میں گفتگو،سعودی وزیر خزانہ ، امریکی خزانہ حکام ، ایشیائی ترقیاتی اور عالمی بینک کے صدور سے ملاقاتیں