لاہور،راولپنڈی(عباس ملک ) وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے کہا ہے عوامی خدمت کا سفر شروع ہو چکا ہے ،جو اب رکے گا نہیں، عوام کے خوابوں کی تعبیر کا وقت آن پہنچا ہے ، ہم سب نے ملکر نیا پاکستان بنانا ہے ،رکاوٹیں آتی ہیں لیکن ہمت نہیں ہاریں گے ۔ وسائل کم اور مسائل زیادہ ہیں لیکن ہمارا عزم ان سے بلند اور جذبے جوان ہیں۔ انہوں نے کہا نئے پاکستان کی منزل کی راہ میں کسی رکاوٹ کو حائل نہیں ہونے دینگے ،عوام کے مسائل حل کرنے کا ہروعدہ پورا کریں گے ، میں صوبے کے شہر شہر جا کر تعلیم اور صحت کے اداروں کا جائزہ لے رہا ہوں، وہ پاکستان بنائیں گے جس کا خواب قائداعظمؒ نے دیکھا اور وہ پاکستان بنائیں گے جس کا خواب عمران خان اور ہم سب نے دیکھا ہے ۔ ہم باتیں نہیں عمل کرکے دکھائیں گے ۔ انہو ں نے راولپنڈی میں گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج برائے خواتین ریلوے سٹیشن روڈ کو ویمن یونیورسٹی کا درجہ دینے کا اعلان کیا ۔ تقریب سے خطاب کے دوران وزیراعلیٰ نے راولپنڈی کیلئے اربوں روپے کے منصوبو ں کا بھی اعلان کیا۔انہوں نے کہا راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی بہت اچھا ادارہ ہے ، اسے اپ گریڈ کیا جائے گا، آر آئی سی کو کارڈیک اینڈ ویسکولر ڈیزیز سنٹر کا درجہ دیا جائے گا۔ راولپنڈی میں گردوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کیلئے ہسپتال پر کام رکا ہوا ہے ، انشا اللہ ہم راولپنڈی میں کڈنی ہسپتال کو بھی فنکشنل کرینگے ۔راولپنڈی میں دوسری ویمن یونیورسٹی بنانا مشکل تھا کیونکہ یہاں پہلے ہی فاطمہ جناح یونیورسٹی موجود ہے لیکن میں راولپنڈی میں دوسری ویمن یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کرتا ہوں۔ پنجاب میں اب سرکاری یونیورسٹیوں کی تعداد 40 ہو جائے گی جبکہ 25 یونیورسٹیاں نجی شعبے میں ہیں، صوبے میں مزید یونیورسٹیاں بھی بنائیں گے ۔انہوں نے کہا راولپنڈی میں نالہ لئی سے موسم برسات میں مسائل پیدا ہوتے ہیں، نکاسی آب کے ساتھ ٹریفک کے مسائل بھی جنم لیتے ہیں، لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ لئی ایکسپریس وے کی بہت ضرورت ہے ، ہم اس منصوبے کو شروع کریں گے اور 23 کلومیٹر لئی ایکسپریس وے پر 70 ارب روپے کی لاگت آئے گی، ہم اس منصوبے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بنائینگے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا راولپنڈی رنگ روڈ کا منصوبہ بھی بہت جلد شروع کیا جائے گا اور اس منصوبے پر 50 ارب روپے لاگت آئے گی اور رنگ روڈ بننے سے راولپنڈی کی قسمت بدل جائے گی۔ نئے بلدیاتی نظام کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا نئے بلدیاتی نظام کے تحت اختیارات حقیقی معنوں میں نچلی سطح پر منتقل ہونگے ، نئے بلدیاتی نظام کے ایکٹ کا مسودہ تیار کر لیا ہے جسے اسمبلی کے اگلے اجلاس میں منظور کرایا جائے گا۔ دیہات میں 22 ہزار پنچایتیں (ویلیج کونسل) بنائی جائیں گی اور یہ ویلیج کونسلز نچلی سطح پر عوام کے مسائل حل کریں گی جبکہ 40 ارب روپے سے زائد کے فنڈز ویلیج کونسلو ں کے ذریعے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونگے ، اسی طرح شہروں میں 182 میونسپل کمیٹیاں بنائی جائیں گی۔قبل ازیں وزیراعلیٰ لاہور سے بذریعہ ٹرین راولپنڈی پہنچے ،وفاقی وزیر ریلویز شیخ رشید احمد ،صوبائی وزرا راجہ بشارت ،سمیع اللہ چودھری اورحافظ ممتاز احمد بھی ان کے ہمراہ تھے ۔مزید برآں وزیراعلیٰ نے کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں ہونیوالے دھماکے کی شدید مذمت کی ۔انہوں نے کہا دشمن کی پاکستان کو عدم استحکام کا شکارکرنے کی سازش کامیاب نہیں ہوگی کیونکہ پاکستانی قوم دہشت گردی کیخلاف یکسو اورمتحد ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا دہشت گرد بزدلانہ کارروائیوں کے ذریعے قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے ، معصوم لوگوں کاناحق خون بہانے والے دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں ۔ نیا پاکستان بناناہے ،رکاوٹیں آئینگی ہمت نہیں ہارینگے ،راولپنڈی میں ہسپتال، یونیورسٹی سمیت اربوں کے منصوبوں کاا علان نئے بلدیاتی نظام کے ایکٹ کا مسودہ تیار ،22ہزار پنچایتیں بنائی جائیں گی،خطاب ، وزیراعلیٰ بذریعہ ٹرین راولپنڈی پہنچے