گھوٹکی: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے یہ کیسی حکومت ہے جس نے ایک سال کے دوران تین بجٹ پیش کیے ، یہ نااہلوں کا ٹولہ ہے ان سے ملک نہیں سنبھالا جارہا، کہاں گئے ان کے ایک کروڑ نوکریاں دینے اورآئی ایم ایف سے قرض نہ لینے کے وعدے ،انکا ہر نعرہ جھوٹ نکلا، یہ شہید بھٹو کا دیا گیا متفقہ آئین تبدیل کرنا چاہتے ہیں، 18ویں ترمیم کو ختم کرنے کی کوشش ہوئی تو پھر دما دم مست قلندرہوگا۔ ان کی ایمنسٹی سکیم ٹیکس دینے والوں کے منہ پر تھپڑ ہے ۔کوئٹہ میں اتنا بڑا سانحہ ہوگیا اور وزیراعظم ابھی تک وہا ں کیوں نہیں گئے ۔گھوٹکی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا عمران خان نے کہا تھا کہ وہ قرض نہیں لیں گے کیونکہ اس سے ملک کی سلامتی گروی ہوجاتی ہے ، انہوں نے کہا تھا کہ خودکشی کرلوں گا قرض نہیں لوں گا، آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا، جو ڈالر 100 روپے کا تھا آج 142روپے کا مل رہا ہے ،کٹھ پتلی نے کہا تھا کہ ایک کروڑ نوکریاں دیں گے ، آج نوجوان بے روزگاری کا رونا رو رہے ہیں۔انہوں نے کہا یہ آہستہ آہستہ 18 ویں ترمیم کو ختم کرنا چاہتے ہیں، یہ سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کا حق مارنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا یہ ون یونٹ نظام لانا چاہتے ہیں جس سے ملک ٹوٹا تھا، کیا یہ ملک توڑنا چاہتے ہیں۔چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا ہم جانتے ہیں صوبے مضبوط ہونگے تو وفاق مضبوط ہوگا، ہم نے جانیں دی ہیں، ہم آئین پر آنچ نہیں آنے دینگے ۔انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا وہ میرے گھوٹکی میں آکر کہتے ہیں وفاق دیوالیہ ہورہا ہے ، تمہاری معاشی پالیسی سے دیوالیہ ہورہا ہے ۔50 لاکھ گھر دینے کی بات کی گئی، یہ غریب کو گھر کیادیتے تجاوزات کے نام پر لوگوں سے چھت چھین رہے ہیں۔ ایمنسٹی سکیم سے آپ کس کا کالا دھن سفید کرنا چاہتے ہیں؟ جہانگیر ترین کا اپنایا علیمہ باجی کا؟۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا تبدیلی سرکار کا منشور،روٹی اور ادویات سمیت سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور۔ لوڈشیڈنگ کا عذاب بڑھتاجارہاہے ،ہرماہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیاجارہاہے ، مزدوربدحالی کی زندگی گزارنے پرمجبورہے ،آج لوگ کھانے کے ایک نوالے کیلئے ترس رہے ہیں، حکومت ملک کوپستی کی طرف لے کرجارہی ہے ،وزیراعظم ہرملک میں بھیک مانگنے کیلئے جاتے ہیں ،یہ دھوکے باز اور بد نیت ہیں بلکہ منافق ہیں ،ساتھیو آپ ان کی منافقت سے ہوشیار رہنا۔ا نکی داخلہ پالیسی انتقام اور خارجہ پالیسی بھیک مانگنے کی ہے ،عوام کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں،ایسا احتساب جس سے انتقام کی بو نہ آتی ہو،کہتا ہوں میرا ہی نہیں سب کا احتساب کرو،یہ نیب کے ذریعے ہمیں خاموش کرناچاہتے ہیں ۔سندھ کے وزیراعلیٰ کو نیب بلالیتا ہے ،علیمہ باجی اور ان کی جائیداد کا پوچھا تک نہیں جاتا،خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کونوٹس نہیں ملتا ؟ہم نے آمروں کا مقابلہ کیا، کٹھ پتلی تمہارا بھی کریں گے ۔ یہ غربت نہیں غریب ختم کررہے ہیں ، غریب جائیں تو جائیں کہا ں؟ ۔ انہوں نے کہا 2018کے الیکشن میں تاریخ کی بدترین دھاندلی کی گئی ، ووٹ کی چوری نہیں بلکہ ووٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ، میرا راستہ روکا گیا، بدترین دھاندلی اور اس سلیکٹڈ وزیر اعظم کو کرسی پر بٹھانے کے باوجود ہم نے تسلیم کرلیا تھا ، ہم نہیں چاہتے تھے کہ سسٹم ڈی ریل ہو ، سو دن پورے ہونے پر ہم نے دیکھا کہ ان کی معاشی پالیسی تو معاشی دہشتگردی ہے ۔ بلاول بھٹو زرداری نے شوشل میڈیا پر اپنے بیان میں ایک بار پھر نیشنل ایکشن پلان پرعملدر آمد کا مطالبہ کر دیا۔بلاول بھٹو نے جاری پیغام میں کہا کوئٹہ کمیشن رپورٹ کی سفارشات پر عمل ہوتا تو آج حالات مختلف ہوتے ، افسوس ہم اتنے المناک سانحے کے بعد بھی ایسی جامع رپورٹ پر عمل کرنے میں ناکام ہوئے ۔بلاول بھٹو نے کوئٹہ میں بم دھماکے کی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا ہر دہشتگرد واقعہ یاد دلاتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد بیانات تک محدود ہے ، سلیکٹڈ حکومت دہشتگردوں کے ہمدردوں کا کینگرو تھیلا بننا بند کرے ۔ تبدیلی سرکار کا منشور،روٹی ، ادویات سمیت سب عام آدمی کی پہنچ سے دور، داخلہ پالیسی انتقام اورخارجہ بھیک ،نوکریوں،گھروں ،قرض نہ لینے کے نعرے جھوٹ نکلے ایمنسٹی سے کس کا کالا دھن سفید کرنا چاہتے ہیں، جہانگیرترین،اپنا یاعلیمہ باجی کا؟، 18ویں ترمیم ختم کرنے کی کوشش ہوئی تو دما دم مست قلندرہوگا:گھوٹکی میں خطاب