کراچی:  آئی جی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام نے کہا ہے کہ پولیس ملازمین کی بچیوں کے لیے چار سالہ بی ایڈ آنرز پروگرام تشکیل دیدیاگیا ہے، اس ضمن میں 80 نشستیں مختص کی گئی ہیں، جس سے بچیوں کو نہ صرف سرکاری اداروں بلکہ نجی کمپنیوں میں بھی ملازمت کے مواقع میسر آسکیں گے ۔ مقامی آڈیٹوریم میں منعقدہ تقریب میں بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ میں شہزاد رائے اور دوربین کی پوری ٹیم بالخصوص سی ای او سلمیٰ کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے پولیس ملازمین کی بچیوں کے لیے چار سالہ بی ایڈ آنرز پروگرام تشکیل دیا اور اس ضمن میں 80 سیٹوں کا کوٹہ مختص کیا۔ اس موقع پر انہوں نے پولیس ملازمین اور ان کے اہل خانہ کی فلاح وبہبود اور ترقی وخوشحالی جیسے اقدامات اور سنجیدہ کاوشوں پر اے آئی جی ویلفیئر سندھ ڈاکٹررضوان احمد کی تعریف کی اور انہیں شاباش دی۔ آئی جی سندھ نے تقریب میں شریک فلاحی تنظیم کے نمائندگان اور عہدیداران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں نے جو درد پولیس ملازمین کے بچوں کے لیے محسوس کیا اور ان کا خیال رکھا اس کے لیے میں آپ سب کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز بحیثیت لیکچرار کیا تھا۔ میں یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ تعلیم جیسے زیور سے آراستہ معاشروں یا افراد کی ترقی و خوشحالی کو کوئی نہیں روک سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس ملازمین اور ان کے ا ہل خانہ کی فلاح وبہبود محکمہ پولیس سندھ کی اولین ترجیح ہے، کیونکہ افسران و اہلکاروں کے مسائل حل کرنے سے محکمے کی کارکردگی میں بہتری آئیگی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس ملازمین اور ان کے اہل خانہ کی فلاح وبہبود کے لیے کیے گئے اقدامات میں تعلیم اور صحت کے شعبے قابل ذکر ہیں۔ تمام اہم سرکاری و نجی اسپتالوں میں پولیس ملازمین، انکے اہلخانہ کو پریشانیوں و مشکلات سے بچانے اور معیاری طبی سہولتوں کی فراہمی کے لیے علیحدہ ڈیسکس قائم کر دی گئی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے مختلف این جی اوز کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کا بھی ذکر کیا۔ آئی جی کلیم امام نے کہا کہ امن کسی بھی معاشرے کی معاشی و اقتصادی ترقی اور خوشحالی کیلئے ضروری ہے ، جبکہ اس حوالے سے پولیس کے انفرادی اور اجتماعی کردار کو بھی کلیدی حیثیت حاصل ہے ۔ بحیثیت پولیس فورس ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنے انفرادی اوراجتماعی کردار وکاوشوں سے نہ صرف معاشرے کو پرامن اور محفوظ بنائیں بلکہ قانون شکن عناصر سے بھی آہنی ہاتھوں سے نمٹیں۔