مردان تحصیل تخت بھائی

(شاہ باباحبیب عارف)

حکمران طبقہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کو لگام دینے کے لیے فوری اور قابل عمل کردار ادا کرے مزدورں کسانوں ،کاشتکاروں کو درپیش مسائل گھمبیر شکل اختیار کر چکے ہیں. زراعت کمزور ہوکر تمام کارخانے بند ہوجانے سے ہزاروں افراد بے روزگار ہو کر نت نئے مسائل جنم لے کر ملک کے اہم ادارے مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں تمباکو پر تین سو روپے فی کلوگرام ٹیکس ناقابل برداشت ہے بجٹ سے پہلے درپیش مسائل کے حل کی یقین دہانی کرانی ہوگی بصورت دیگر اسلام آباد میں تاریخی دھرنا دے کر بھرپور تحریک چلائیں گے ان خیالات کا اظہار سارڈو. انجمن تحفظ کاشتکاران. ٹریڈرز یونینز اور چیمبرز کے مشترکہ سیمینار سے مقررین نے کیا سیمینار سے سرحد ایگریکلچرل اینڈ رولر ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن(سارڈو) کے صوبائی چیئرمین حاجی عبد النبی خانجی جنرل سیکرٹری حسین احمد کسان بورڈ کے خیبر پختونخواہ کے صدر رضوان اللہ محنت کش لیبر فیڈریشن کے صوبائی صدر ابرار اللہ جنرل سیکرٹری شیرزادہ خان انجمن کا شتکاران کے صوبائی صدر حاجی نعمت شاہ ساولڈھیر تمباکو ڈیلر ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر ارسلاخان انجمن کا شکاران کے صوبائی سینئر نائب صدر ظاہر شاہ مہمند کسان بورڈ کے صوبائی سینئر صدر حاجی عبد الاکبر خان مردان کے جنرل سیکرٹری قاضی شفیق خان نواب گل حاجی محمد قمر فرہاد علی کے علاوہ ضلع صوابی چارسدہ نوشہرہ ملاکنڈ پشاور مانسہرہ بونیر بنوں کوہاٹ اور دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فصل تمباکو سے مرکزی حکومت کو سالانہ ایک ارب روپے کی ٹیکس کی مد میں آمدن ہوتا ہے اس کے باوجود تمباکو کمپنیوں کے ذمہ تمباکو کاشت کاروں کے کروڑوں روپے کے بقایاجات چلے آرہے ہیں دوسری طرف فلپس مور کے زیر اہتمام کارخانے بند ہوکر 6300 مزدوروں کو بیروزگار کرکے اجیرن زندگی گزارنے پر مجبور ہے انہوں نے کہا کہ نقد آور فصلوں سے منسلک کاشتکاروں میں شدید مایوسی پائی جاتی ہیں انہوں نے کہا کہ بار بار شکایتوں کے باوجود پختونخواہ کے صنعتی مزدوروں اور کاشتکاروں کو درپیش مسائل جوں کے توں ہیں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کاشت کاروں اور مزدوروں کی بے چینی دور نہ کی گئی تو اسلام آباد جاکر تاریخی دھرنا دے کر حکمرانوں کو بسترا گول کرنے پر مجبور کرے گی سیمینار میں منظور کردہ قراردادوں میں تمباکو پر تین سو روپے فی کلو ٹیکس واپس لینے فلپس مور کے 6300 مزدوروں کو بحال کرنا تمباکو کمپنیوں کے ذمہ کاشتکاروں کے بقایاجات دینے پاکستان ٹوبیکو کمپنی کی طرف سے کاشتکاروں کو زبردستی این پی کے کھاد کے بارے تحقیقات کرانے کیونکہ کمپنی کی طرف سے مارکیٹ ریٹ 29 سو روپے کی بوری جبکہ 36 سو روپے بوری پر کاشت کاروں کو دی جاتی ہے اورحکومت سرکاری سطح پر صوبائی کاشتکار کنونشن منعقد کرانے کا مطالبہ کیا..تاکہ کاشتکاروں کو اپنے درپیش مسائل منظر عام پر لانے کا موقع میسر ہوسکے..