ملتان: موجودہ حکومت نے وعدوں کے برعکس مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ کر دیا ۔ حکومت غریب، مزدور اور تنخواہ دار طبقہ کو فاقہ کشی اور خودکشی کی جا نب لے آئی ہے ۔رمضان سے قبل مارکیٹ میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں ۔چند دنوں میں خمیری روٹی اور نان کی قیمت میں 2 روپے اضافہ کر دیا گیا ہے ۔پرائس کنٹرول کمیٹیاں کہیں نظر نہیں آتیں ۔ سیب کالا کلو (پہاڑی)142 تا148 ، سیب کالا کلو (میدانی) 96تا 100 روپے کلو ، کیلا80 سے 85 روپے درجن اور امرود48 سے 50 روپے کلو فروخت ہورہا ہے ، اسی طرح کھجور 160، باسمتی (سپر کرنل) نیا95 تا 120 ، چینی 48 ، گڑ70 ، سفید چنا 120 ، سیاہ چنا95 ، دال چنا 95 ، مونگ ثابت95 ، دال مونگ 90 ، ماش ثابت 85 اور بیسن 93 روپے کلو تک فروخت ہورہا ہے ۔آلو نیا 20، پیاز50 ، ٹماٹر45 روپے کلو ، ادرک چائنہ 190 ، پالک17، بینگن30 ، بھنڈی 125،کریلہ150، گھیا کدو60 ، مٹر40 ، شملہ مرچ60 ، پھول گوبھی30 ، بند گوبھی 35 ، شلجم32 ،مولی15اور لیموں چائنہ80 روپے کلو فروخت کیا جا رہا ہے ۔ شہر کی مختلف مارکیٹوں میں قیمتوں میں بھی نمایاں تضاد پایا جاتا ہے ۔اس سلسلہ میں گھریلو خواتین نسیم بی بی،رخسانہ کوثر،فرخندہ،کنول،مہ جبیں اور شمیم اختر نے کہا کہ 7ماہ سے عوام اذیت سے دوچار ہیں ۔ لوگ بنیادی ضروریات کو ترس گئے ہیں ۔مزدروں کی کم سے کم اجرت 18 ہزار روپے پر عملدرآمد کرایا جا ئے ۔ضلعی انتظامیہ نے مہنگائی پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔مارکیٹ میں تاریخ ساز مہنگائی ہو چکی ہے ۔اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عوام کی دسترس سے باہر ہو چکی ہیں۔دوسری طرف طرف گیس، بجلی اور پانی کے بلوں میں بھی اضافہ کیا جا رہاہے ۔